ٹنڈو جام ، حیسکو کا نادہندگان کیخلاف آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت )ٹنڈوجام میں حیسکو کی جانب سے بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا ایس ڈی او حیسکو ٹنڈوجام، دریا خان میمن کی قیادت میں کی جانے والی اس کارروائی میں شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے اور درجنوں غیر قانونی کنکشن منقطع کر دیئے گئے تفصیلات کے مطابق حیسکو ٹیم نے ایس ڈی او حیسکو ٹنڈوجام، دریا خان میمن اور محمد اسلم کھور، محمد اکرم اور اسلام الدین پر مشتمل عملے کے ہمراہ نواہٹ بازار، ریلوے پھاٹک، مالاکنڈ چوک اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن کیا کارروائی کے دوران کئی مقامات پر بجلی چوری کی نشاندہی ہوئی جس پر غیر قانونی کنکنشن کو فوری طور پر منقطع کر کے تاریں ضبط کر لی گئیں ایس ڈی او دریا خان میمن نے اس موقع پر کہا کہ بجلی چوری ایک سنگین جرم ہے جس سے نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے بلکہ نظامِ تقسیمِ توانائی بھی متاثر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ حیسکو کسی قسم کی بدعنوانی یا بجلی چوری برداشت نہیں کرے گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں کے نادہندگان کو بھی وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے واجبات ادا کریں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں بجلی کاکنکشن کاٹنے کے ساتھ ساتھ جرمانے اور مقدمات کا سامنا بھی انھیں کرنا پڑے گا انھوں نے کہا کہ اگر حیسکو کے عملے میں سے بھی کو ملازم بجلی چوری کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی کے بل وقت پر ادا کریں اور غیر قانونی ذرائع سے بجلی کے حصول سے گریز کریں تاکہ نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے بلکہ توانائی کے نظام کو بھی مستحکم رکھا جا ئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔