ایران پر اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے البینزم سے متعلق آگاہی کے عالمی دن پر پیغام میں کہا کہ البینزم کمزوری نہیں، محض قدرتی تنوع کا حصہ ہے۔ البینزم کا شکار افراد خوبصورتی کا روشن پہلو ہیں، عزت اور تحفظ دینا معاشرتی فریضہ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ایسا پنجاب چاہتے ہیں جہاں کسی کو جلد، ظاہری شکل یا پیدائشی فرق کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھا جائے۔ البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت، احترام اور قبولیت کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا ہوگا۔ حکومت پنجاب البینزم سمیت دیگر سپیشل افراد کو مکمل تعلیمی، طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم عمل ہے۔ البینزم کے شکار افراد کے حقوق کی حفاظت اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ مریم نوازشریف نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اسرائیلی حملے میں ایرانی عہدیداروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اور ایران کے عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مریم نوا زشریف نے چکوال کے قریب کار حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا