اسرائیل کے فضائی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 86 ہوگئی؛ ایران
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے میں اعلی فوجی عہدیداروں اور جوہری سائنس دانوں سمیت عام شہری بھی جاں بحق ہوئے جب کہ 340 سے زائد زخمی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان تہران میں ہوا جہاں ایران کی جوہری، عسکری اور اسٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
تہران سمیت دیگر شہروں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 78 ہوگئی جب کہ 341 افراد زخمی ہیں۔ جن میں سے درجنوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
جس کے باعث جانی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیل مزید حملوں کی بھی دھمکی دی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری نور نیوز نے اطلاع دی کہ اسرائیلی حملے دہائیوں میں ایران کی سرزمین پر ہونے والی سب سے شدید بمباری ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب (IRGC) کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی تہران میں واقع مرکزی ہیڈکوارٹر پر حملے میں جاں بحق ہوگئے۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایرانی فوج کے ڈپٹی کمانڈر جنرل غلام علی رشید، معروف جوہری سائنسدان فریدون عباسی اور محمد مہدی طہرانچی بھی شامل ہیں۔
اسی طرح اسرائیل نے نطنز میں واقع احمدی روشن نیوکلیئر تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں پروفیسر احمد رضا ذوالفقاری جاں بحق ہوگئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی بھی شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں نے ایرانی زمین سے زمین تک مار کرنے والے درجنوں میزائل لانچرز، گوداموں اور اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کیا۔
اسرائیلی نیوز چینل 12 کے مطابق ایرانی فضائیہ کے زیر استعمال تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ اور بوشہر ایئرپورٹ پر بھی حملے کیے گئے۔
اسرائیلی حملوں کے دائرہ کار میں شمال مغربی شہر تبریز اور جنوب مغربی شہر کرمانشاہ بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔