گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 14 June, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) لاہور ہائیکورٹ نے گریڈ 20 اور 21 کے افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی مونیٹائزیشن پالیسی جاری کر دی۔ چیف جسٹس اور دیگر ججز کی منظوری کے بعد اس پالیسی پر عملدرآمد کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اب افسران کو سرکاری گاڑی کے بجائے ماہانہ بنیاد پر فکس الاؤنس دیا جائے گا۔ گریڈ 20 کے افسران کو 65 ہزار 960 روپے ماہانہ جب کہ گریڈ 21 کے افسران کو 77 ہزار 430 روپے ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گریڈ 19 کے افسران کے لیے فکس الاؤنس کی منظوری سے متعلق فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، نتائج بھگتنا ہوں گے: چین، روس اسرائیل نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، نتائج بھگتنا ہوں گے: چین، روس اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول، ایران کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے: پاکستان وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب کے گھر پر راکٹ حملہ ایران نے امریکی شہریوں یا اڈوں کو نشانہ بنایا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے؛ امریکا کی دھمکی پی ٹی آئی، متحدہ گٹھ جوڑ بے نقاب، غنڈہ گردی کی سیاست ناکام ہو چکی، شرجیل میمن اسرائیل کے ایران پر حملے جاری، تہران میں ایٹمی سائٹ کے قریب دھماکےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔