data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے “بنی ہاپ” طرز کے باؤنڈری کیچز کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے ایک نیا اصول متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے، جو میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کی جانب سے حالیہ تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ نیا ضابطہ رواں ماہ کے آخر تک آئی سی سی کی پلیئنگ کنڈیشنز کا حصہ بن جائے گا، جبکہ اکتوبر 2026 میں اسے باضابطہ طور پر ایم سی سی کے قوانین میں شامل کیا جائے گا۔

نئے اصول کے مطابق، اب کوئی فیلڈر اگر باؤنڈری سے باہر ہوا میں موجود ہو تو صرف ایک بار گیند کو چھو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد اسے لازمی طور پر دوبارہ میدان کے اندر آ کر کیچ مکمل کرنا ہوگا۔ اس کا مقصد کھیل کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانا ہے۔

ایم سی سی کی جانب سے یہ ترمیم بگ بیش لیگ (BBL) کے دوران پیش آئے متنازع واقعات کے بعد کی گئی ہے، جن میں سب سے نمایاں برسبین ہیٹ کے مائیکل نیسر کا وہ کیچ تھا جو انہوں نے سڈنی سکسرز کے جارڈن سلک کو آؤٹ کرنے کے لیے لیا۔ اس واقعے میں نیسر نے باؤنڈری کے قریب گیند کو پکڑا، پھر باؤنڈری لائن پار کرنے کے بعد گیند کو ہوا میں اچھال کر واپس میدان کے اندر آ کر دوبارہ کیچ مکمل کیا، جس پر خاصی بحث ہوئی۔

نیا اصول ایسے کیچز کو روکنے اور کھیل میں وضاحت لانے کے لیے متعارف کروایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت