جنوبی افریقی ٹیم 27 سال بعد آئی سی سی ٹرافی اُٹھانے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
جنوبی افریقی ٹیم 27 سال کے طویل انتظار کے بعد آئی سی سی ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوگئی۔
لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل میں جنوبی افریقا نے آسٹریلیا کو شکست دیکر 1998 کے بعد پہلی بار آئی سی سی ٹرافی اپنے نام کی۔
ٹمبا باوما کی کپتانی میں جنوبی افریقی ٹیم پہلی بار آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل میں پہنچی، جہاں انکا مقابلہ دفاعی چیمپئین آسٹریلیا سے تھا۔
مزید پڑھیں: جنوبی افریقا نے آسٹریلیا کو شکست دیکر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ ٹائٹل جیت لیا
جنوبی افریقی کپتان نے اہم مقابلے کا ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، پہلی اننگز میں آسٹریلوی ٹیم 212 رنز بناکر آل آؤٹ ہوئی جبکہ پروٹیز جواب میں محض 138 رنز بناسکے۔
دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے مچل اسٹارک اور ایلکس کیری کی ففٹیز کی بدولت 207 رنز بنائے اور جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 282 رنز کا ہدف دیا۔
مزید پڑھیں: ٹیسٹ چیمپئین شپ فائنل؛ ہیڈن، اسٹین نے کمنز کو تنقید کا نشانہ بناڈالا
ہدف کے تعاقب میں پروٹیز کا آغاز اچھا نہ رہا، پہلی وکٹ محض 9 اور دوسری وکٹ 70 کے مجموعی اسکور پر گری بعدازاں تیسری وکٹ کیلئے ایڈن مارکرم اور کپتان ٹیمبا باوما کی 143 رنز کی پارٹنرشپ نے میچ کا رخ تبدیل کردیا۔
چوتھے روز کھیل کے آغاز پر افریقی کپتان ٹمبا باوما محض ایک رنز کے اضافے کے بعد وکٹ گنوا بیٹھے، انہوں نے 66 رنز کی اننگز کھیلی، بعدازاں ٹرسٹن اسٹبس بھی 8 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی میزبانی؛ آئی سی سی کا بھارت کو صاف انکار
چوتھی وکٹ کیلئے ایڈن مارکرم اور ڈیوڈ بیڈنگھم نے 35 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم مارکرم 136 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے تھے تاہم بیڈنگھم نے 21 بناکر ناٹ آؤٹ رہے اور ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کروایا۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا نے اب تک صرف ایک آئی سی سی ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، جو انہوں نے 1998 میں آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ جیتا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ جنوبی افریقی جنوبی افریقا ا سٹریلیا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔