عطااللہ تارڑ کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید، بجٹ، ایران اور فلسطین سے متعلق مؤقف واضح
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبے انتہائی زبوں حالی کا شکار ہیں، جہاں55 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی انقلابی منصوبہ پیش کیا گیا، جبکہ پشاور میں سیف سٹی منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں خیبرپختونخوا حکومت کے تمام ادارے، وزرا کرپشن میں ملوث ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی
’ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف دوٹوک مؤقف اپنایا، جس پر ایران کے مستقل مندوب نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور پاکستان ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
’فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی‘
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ غزہ کے نہتے عوام پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کی ہے۔ فلسطینی کاز پاکستان کے دل کے قریب ہے اور ہر عالمی فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کی جاتی رہی ہے۔
’بجٹ اور معیشت پر حکومتی مؤقف‘
وفاقی وزیر نے بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اللہ کے فضل سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر سے روکنے کی کوشش کی، مگر اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات وطن بھیج کر حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو تنخواہوں میں اضافے اور ٹیکس میں نرمی کے ذریعے بھرپور ریلیف دیا گیا۔ ملک میں ٹوبیکو مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی بندرگاہ پر فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا جس سے کنٹینر کلیئرنس چند گھنٹوں میں ممکن ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں شہباز شریف کی قیادت میں معیشت بحال، 9 مئی کا بیانیہ دفن ہوچکا، عطا تارڑ
وزیر اطلاعات نے مزید کہاکہ بینکوں پر پہلی بار ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کی خصوصی نگرانی میں34.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خیبرپختونخوا حکومت تنقید عطااللہ تارڑ قومی اسمبلی وفاقی بجٹ وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا حکومت تنقید عطااللہ تارڑ قومی اسمبلی وفاقی بجٹ وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز خیبرپختونخوا حکومت عطااللہ تارڑ وفاقی وزیر انہوں نے نے کہاکہ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ