سکھرپریس کلب میں سندھ وومن جرنلسٹس ایسوسی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت )سکھر پریس کلب میں سندھ وومن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صحافتی امور، تنظیمی معاملات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کی صدارت ایسوسی ایشن کی صدر سحرش کھوکھر نے کی جبکہ خصوصی شرکت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے کی۔اجلاس میں خواتین صحافیوں کو درپیش چیلنجز، ان کے حل اور سندھ بھر میں صحافتی شعبے میں خواتین کے فعال کردار پر زور دیا گیا۔ اجلاس کا مرکزی ایجنڈا تنظیم کے آئیندہ انتخابات کے طریقہ کار پر مشاورت تھا۔ اس حوالے سے دو آراء سامنے آئیں: ایک، آن لائن پولنگ کے ذریعے انتخابات کرانے کی تجویز، جبکہ دوسری، مشاورتی اجلاس کے ذریعے اتفاق رائے سے عہدیداران کے چناؤ کی تجویز۔انتخابات کا حتمی فیصلہ مشاورتی اجلاس کے بعد ہوگا۔ لالا اسد پٹھان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین صحافی ریاست کے چوتھے ستون صحافت کا اہم اور متحرک جزو ہیں، اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سکھر پریس کلب میں ایک جدید نیوز اسٹوڈیو کی تعمیر کا کام جلد مکمل کیا جائے گا، جس سے خواتین صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا میں روزگار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔