ہمارے ٹیکس پر چلنے والے ادارے سیاستدانوں سے متعلق جھوٹ گھڑتے ہیں:فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) فضل الرحمن نے کنونشن سے خطاب میں کہا ہے کہ انسانوں کی برائیوں اور غلطیوں کی کھوج میں نہ لگیں یہ بڑا گناہ ہے ہمارے ٹیکس پر چلنے والے ادارے سیاستدانوں کے بارے میں جھوٹ گھڑتے ہیں جو عوام کی سطح پر بات نہیں کر سکتا وہ سوشل میڈیا پر گالی اور جھوٹ گھڑتا ہے آئین میں لکھا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا، ڈرافٹ تیار ہوتا ہے تو بتایا جاتا ہے کہ آئی ٹی ایف یا آئی ایم ایف کی وجہ سے بتایا جا رہا ہے اس وقت رویت ہلال کمیٹی کا کوئی قانون نہیں رویت ہلال کمیٹی بغیر کسی قانون چل رہی ہے۔ علماء کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ سیاستدان سے متعلق اچھائی کے مقابلے میں برائی کو خبر قرار دیکر اچھالا جاتا ہے جے یو آئی کے کارکنوں نے بہت کم وقت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں علوم میں دین اور دنیا کی تقسیم سے مجھے اختلاف ہے۔فضل الرحمن نے سینیٹر فیصل واوڈا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ فضل الرحمنٰ کی رہنمائی ہم تمام پاکستانیوں کیلئے ضروری ہے۔ ہم مولانا سے سیکھتے رہیں گے وہ ہمارے بڑے اور استادوں میں سے ہیں۔ فضل الرحمنٰ نے کہا کہ فیصل واوڈا نے دعوت دی تو حاضر ہو گیا۔ اچھی بات ہے ہم ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فضل الرحمن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔