سابق کیوی کپتان کین ولیمسن نے ویرات کوہلی کو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی 21ویں صدی کی پلئینگ الیون سے بھی باہر کردیا۔

کرک انفو نے سابق ٹیسٹ کرکٹر میتھیو ہیڈن اور سابق کپتان کین ولیمسن سے آل ٹائم 21ویں صدی کی ٹیم بنانے کو کہا، جس پر سابق کیوی کپتان نے پلئینگ الیون سے ویرات کوہلی کو نکال دیا جبکہ انہوں نے محض ایک پاکستانی اسٹار کو شامل کیا۔

کین ولیمسن نے اپنی پلئینگ الیون میں اوپنرز میں میتھیو ہیڈن، ویندر سہواگ، مڈل آرڈر کیلئے رکی پونٹنگ، سچن ٹنڈولکر، اسٹیو اسمتھ، اے بی ڈی ویلیرز، وکٹ کیپر مہندرا سنگھ دھونی، بالرز میں ڈیل اسٹین، شعیب اختر، گلین میک گرا اور مرلی دھرن کو شامل کیا۔

اسٹار کیوی کرکٹر کی پلئینگ الیون میں محض ایک پاکستانی بالر شعیب اختر شامل تھے، اسکے علاوہ کوئی پاکستانی جگہ نہیں بناسکا۔

اسی طرح سابق آسٹریلوی اوپنر میتھیو ہیڈن کی پلئینگ الیون میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا، انہوں الیسٹر کک، ڈیوڈ وارنر، جیک کیلس، برائن لارا کپتان، ویرات کوہلی، وی وی ایس لکشمن، ایڈم گلکرسٹ، شین وارن، پیٹ کمنز، بریٹ لی اور جیمز اینڈرسن کو جگہ دی۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان