تحفظات دور نہ کئے تو وفاقی بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ نہیں دینگے،وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ وفاق نے تحفظات دور نہ کیے تو پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے ووٹ نہیں دے گی۔کراچی میں پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس میں مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ وفاق پی ڈبلیوڈی کا محکمہ ختم کیا، اس کے تمام منصوبے باقی 3 صوبوں کو بجٹ سمیت دے دیے لیکن سندھ کو محروم رکھاگیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی اسمبلی سے منظوری کے لیے پیپلزپارٹی نے 3 شرائط رکھیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام اسکیمیں دیگر صوبوں کی طرح سندھ کو دے دیں، سندھ کی جامعات کا بجٹ 4 ارب سے کم کرکے 2 ارب روپے کردیا گیا جس پر احتجاج کیا ہے، سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے رقم30 ارب سے کم کرکے 15 ارب روپے کردی گئی، سولر پینلز پر18 فیصد ٹیکس کے بھی خلاف ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ یہ تمام منصوبے درست نہیں ہوئے تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت نہیں کرے گی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کی واضح ہدایت ہے کہ سندھ کے تحفظات دور ہوئے بغیر وفاقی بجٹ میں ووٹ نہ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وفاق سے سندھ کو چلانے کی کوئی کوشش پہلے بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے اور موجودہ وفاقی حکومت کے پاس تو ویسے بھی کوئی اختیار نہیں ہے، وفاق سندھ کے شہری علاقوں کو اپنی نوآبادیات سمجھنا چھوڑ دے۔ان کا کہنا تھاکہ وفاق سے منتقلی پوری نہیں آئی اور بجٹ سے صرف ایک روز پہلے خط میں آگاہ کیا گیا کہ ایک سو 5 ارب روپے کم دیں گے، آئندہ سال تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات ایک اعشاریہ ایک کھرب روپے ہوںگے، مشکلات کے باوجودگریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہ میں 12 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی بجٹ کی کہ وفاق
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے