Daily Ausaf:
2026-06-03@06:50:21 GMT

ایران اسرائیل سٹرٹیجک وار گیم

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

اگر ایرانی رجیم نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں مزید دیر کر دی اور اپنی سٹرٹیجک پالیسیز پر نظرثانی نہ کی تو اسے امریکی رہنمائی میں اسرائیل کے مزید شدید ترین حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان زمینی فاصلہ لگ بھگ دو ہزار کلومیٹر کا ہے اور اسرائیل کو ایران کی طرف سے میزائل اور ڈرونز حملوں کے سوا کسی قسم کے بری اور زمینی حملے کا خطرہ نہیں ہے جبکہ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی اور فضائی حملوں کی صلاحیت اور استعداد کو اسرائیل اپنے 13جون 2025 ء کے الصبح کے حملوں میں مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکا تو کم از کم کافی حد تک ناکارہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسرائیل کے موجودہ کامیاب حملوں کا تجزیہ اگر 2024 ء میں ایران میں موجود حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی روشنی میں کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر تازہ حملہ کتنی عرق ریزی سے کی گئی منصوبہ بندی کے بعد کیا جس میں ایران کو بھاری سویلئین اور فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے برعکس عالمی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جب ایران نے جوابی حملے میں 100 سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے انہیں بڑی حد تک راستے ہی میں ناکام بنا دیا۔
اسرائیل نے حملہ کی ابتدا میں ہی ایران کی ٹاپ فوجی قیادت ختم کر دی جس میں ایئر چیف تک شہید ہو گئے۔ اس کے باوجود ایران پر اسرائیلی حملے تادم تحریر جاری ہیں۔ وقفے وقفے سے اسرائیلی طیارے ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کی معلومات اس قدر مکمل ہیں کہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے لانچنگ میزائل پیڈ بھی سو فیصد درستگی کے ساتھ نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ایران کے پاس مہلک خود کش ڈرون تھے۔ اسرائیلی پر حملہ کیلئے 100 ڈرون بھیجے گئے جن میں سے 97 فیصد اردن ،شام اور عراق وغیرہ میں گرا لئے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی جیٹ طیارے ایران کے 60 فیصد ہوائی اڈے تباہ کر چکے ہیں۔ ایک روز قبل روسی اور چینی نیوز چینلز کے مطابق مہرآباد اور بوشہر کے ائیرپورٹ تباہ کئے گئے۔ تبریز میں بلاسٹک میزائل کے تمام لانچنگ پیڈ تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ایرانی ایئر ڈیفنس کا نظام مفلوج ہے جہاں سے ڈرون اڑے تھے۔ ایران کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آبادان بھی صبح گیارہ بجے تباہ کر دی گئی۔
پوری دنیا ایران کے ردعمل کی منتظر تو ہے لیکن یہ ردعمل بہت کم شدت کا ہو گا۔ اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کے لیئے درکار تمام سہولتیں اردن ،شام اور عراق میں مل رہی ہیں جبکہ ایران کے آئندہ کسی جوابی ڈرون حملے کو بھی انہی ملکوں نے ناکام بنا دینا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایران کو اپنی آنکھ کھولنی چایئے۔ اسرائیلی جیٹ شام کی فضائوں میں ری فیولنگ حاصل کرتے رہے۔ جبکہ عراق اور اردن میں انہیں یہی سہولتیں زمین پر میسر ہیں۔
مزید برآں ایرانی فضائیہ کے پاس 30 سال پرانے روسی طیارے یا عراق پر امریکی حملہ کے موقع پر آنے والے عراقی لڑاکا جیٹ ہیں اور ایران کے بیشتر ائر پورٹس بھی تباہ ہو چکے ہیں اور ایرانی لڑاکا طیارے فضاں میں اسرائیلی طیاروں کو چیلنج کرنے سے قاصر ہیں۔ ایران بلاسٹک میزائلوں سے حملہ کر سکتا ہے۔ لیکن بیشتر لانچنگ پیڈ تباہ ہونے سے جوابی حملہ ڈرون حملہ کی طرح ناکام ہونے کا امکان یے۔
آخر ایران اسرائیل کے لئے نوالہ تر کیوں ثابت ہوا یا ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب ایران کی وہ غیردانشمندانہ سٹرٹیجک وار ہے جو اس نے گزشتہ نصف صدی سے اپنے برادر مسلم ممالک کے خلاف جاری کر رکھی ہے۔ ایک طرف ایران پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ نرم کوشہ رکھتاہے، دوسری طرف یمن میں وہ سعودی عرب کے خلاف ایرانی حوثیوں کو مدد فراہم کرتا ہے اور تیسری طرف وہ پاک بھارت جنگ میں خفیہ طور پر بھارت کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔
اسرائیل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملہ ایران کے اندر سے کیا۔ اسرائیل نے ساری منصوبہ بندی اور یہاں تک کہ جو میزائل داغے، وہ بھی ایران کے اندر سے داغے۔ اسرائیل یہ منصوبہ بندی کئی سالوں سے کر رہا تھا، سینکڑوں افراد ایران کے اندر موجود تھے جو بنیادی طور پر موساد کے ایجنٹ تھے، ایرانی دفاعی تنصیبات کی اطلاع بھی ان ایجنٹوں کے ذریعے اسرائیل کو پہنچتی رہی یعنی مطلب یہ کہ ایران کے اندر صیہونی فوج تیار ہو رہی تھی مگر ایران ’’پراکسی وار‘‘ اور ’’مسلکی و مذہبی جنگ‘‘ میں اپنے ہم خیال گروپ تیار کرنے میں مصروف تھا۔
اس کے باوجود پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اس نے ’’معاہدہ‘‘ نہ کیا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹنا پڑے گا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ستمبر میں لبنان میں حزب اللہ کے ذمہ داروں کے ہاتھوں میں اور بیگوں میں ہی ان کے اپنے پیجرز اور واکی ٹاکی پھٹ گئے تھے۔ دو بار ہونے والی ان کارروائیوں میں ایرانی سفیر سمیت 32 لوگ مارے گئے تھے اور 28 سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ایران اسرائیل کے ہاتھوں جاری اس ہزیمت سے اب بھی ہمسایہ برادر ممالک کے بارے اپنی سٹرٹیجک پالیسی تبدیل نہیں کرتا تو اسے اسرائیل کے خلاف یہ جنگ اکیلے لڑنا ہو گی جس میں کامیابی کے امکانات زیرو پرسنٹ سے بھی کم نظر آ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایران کے اندر اسرائیل کے اسرائیل نے ایران کی ایران پر

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام