ایرانی انٹیلی جنس ناکامی کا ممکنہ سبب بھارت ہو سکتا ہے، ڈاکٹر ماریہ سلطان
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹڈیز انسٹیٹوٹ کی صدر اور بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا ہے کہ ایرانی ایٹمی سائنسدانوں اور فوجی سربراہان کی ایک ساتھ شہادت ایرانی انٹیلی جنس کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فوجی کمانڈر جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو اُن کی معلومات کہیں نہ کہیں سے لیک ہو کر اسرائیل تک پہنچتی ہیں۔ یہی چیز حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ اور پاسداران انقلاب کے قاسم سلیمانی کی شہادتوں کے دوران بھی ہم نے دیکھی کہ اُن کی معلومات لیک کی گئیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاسدران انقلاب کی تنظیم کے اندر سنجیدہ انٹیلی جنس مسائل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ایران کی کچھ جوہری تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا، مکمل ختم نہیں ہوئیں: سابق سفارتکار نائلہ چوہان
انہوں نے کہاکہ دوسری ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اسرائیل کو ایران میں اُن لوگوں سے معاونت مل رہی ہے جن کے بارے میں ایران میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جاسوسی میں ملوث نہیں ہیں۔ اس میں بھارت، فرانس اور برطانیہ شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ تینوں ممالک اس وقت اسرائیل کے دفاعی پارٹنرز ہیں۔ اسرائیل کو ایرانی فوجی رہنماؤں کے بارے میں رئیل ٹائم انفارمیشن جو ملتی ہے اُس میں اسرائیل کے ان تین اتحادیوں کا کردار ہو سکتا ہے۔
’اسرائیل کا بھارت کی خاطر جنگ لڑنا دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا لیول بتاتا ہے‘ڈاکٹر ماریہ سلطان نے حالیہ پاک بھارت فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اسرائیل نے بھارت کی خاطر یہاں آکر پاکستان سے جنگ کی ہے جو کوئی معمولی بات نہیں اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اعتماد کا لیول کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت اور ایران کے درمیان گوکہ اسٹریٹجک پارٹنر شپ ہے لیکن اسرائیل نے بھارت کے ساتھ مل کر ایک پوری جنگ لڑی ہے، یہ دونوں ملکوں کے درمیان فعال تعلقات کی ایک اور ہی سطح ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اس فوجی کشیدگی کے دوران جوہری ریسپانس بھی دے سکتا تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل نے بھارت کے لیے کس قدر بڑا رسک لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور بھارت کی فوجیں آپریشنز کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں اور انٹیلی جنس نظام سے بھی منسلک ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان میں حالات خراب کرنے کے لیے بھارت اگر ایرانی سرزمین کا استعمال کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ بھارت ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے لیے اُسے استعمال کررہا ہے۔
’ایران اسرائیل جنگ طوالت اختیار کر سکتی ہے‘ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ ایران اسرائیل جنگ نہ صرف یہ کہ طوالت اختیار کرے گی بلکہ اس کی شدّت اور اس کے دائرہ اثر میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ایران نے بین الاقوامی پابندیاں، سفارتی و فوجی تنہائی برداشت کیں لیکن جوہری صلاحیت کے حصول سے دستبردار نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے نہ صرف ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ ایران کے جوہری سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی قیادت کو بھی شہید کیا۔ گو کہ ایران نے شہید فوجی قیادت کو نئی قیادت سے تبدیل کیا ہے لیکن جنگ کے دوران قیادت تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اُس طرح سے فعال نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہاکہ اس تناظر میں ایران نے فوری طور پر کچھ ڈرونز بھیج کر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسرائیل کو جواب دینے کے لیے وہ کچھ وقت مزید حاصل کرنا چاہے گا۔ ایران وقت حاصل کر کے اپنی صلاحیت کو ایک مرتبہ پھر سے مجتمع کرکے حملہ آور ہو گا۔
’ایران کی محدود جنگی صلاحیت‘ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ ایران کے پاس فضائی طاقت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اُن کے پاس غیر روایتی بری طاقت تو ہے لیکن روایتی بری طاقت موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ایران کے پاس میزائل اور ڈرونز موجود ہیں جو وہ استعمال کر سکتا ہے لیکن وہ اپنی میزائل اور ڈرونز کی صلاحیت یا تو عراق یا پھر لبنان سے استعمال کر سکتا ہے اور اُسے اسرائیلی ٹارگٹس کو منتخب کرنا پڑے گا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ اگر وہ امریکا کے خلاف کوئی قدم اُٹھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنگ کا دائرہ کار بڑھ گیا ہے اور فی الوقت ایران جنگ کا دائرہ کار بڑھانا نہیں چاہے گا۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیل کے حملے سے قبل موساد ایجنٹوں نے ایران میں کیا کارروائی کی؟
’ایران اسرائیل جنگ سے امریکا کی بظاہر لاتعلقی ایک بے معنی بات ہے‘ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ ایران اسرائیل جنگ سے امریکا کی بظاہر لاتعلقی ایک بے معنی سے بات ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ ہے جس کی رو سے اسرائیل پر حملہ امریکا اور امریکا پر حملہ اسرائیل پر حملہ تصوّر کیا جائے گا۔ امریکا اور اسرائیل کی دفاعی پیداوار اور دفاعی نظام مشترک ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل حملہ ایرانی انٹیلی جنس ناکامی بھارت پاکستان ایران جنگ ماریہ سلطان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حملہ ایرانی انٹیلی جنس ناکامی بھارت پاکستان ایران جنگ ماریہ سلطان وی نیوز ڈاکٹر ماریہ سلطان نے ایران اسرائیل جنگ انہوں نے کہاکہ نے کہاکہ ایران انٹیلی جنس استعمال کر اسرائیل نے کہ اسرائیل اسرائیل کے کے درمیان ایران کے کہ ایران سکتا ہے کا مطلب ہے لیکن کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے ساتھ ا حملہ ا
پڑھیں:
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی
منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔
مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔
مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد