’’منگنی ٹوٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑا؟‘‘؛ میرب علی نے خوشی میں ناچتے گاتے ویڈیو شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور ماڈل میرب علی نے گلوکار عاصم اظہر سے منگنی ٹوٹنے کے بعد اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر خوشی میں ناچتے گاتے ہوئے ویڈیو شیئر کی ہے جیسے انھیں اس بریک اپ سے کوئی فرق ہی نہیں پڑا ہو۔
اپنے حالیہ شوٹ کے دوران انہوں نے نہ صرف مکمل تبدیل شدہ لُک کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک انگریزی گیت پر جھومتی ہوئی ویڈیو بھی شیئر کی۔
یاد رہے کہ میرب اور عاصم نے مارچ 2022 میں منگنی کا اعلان کیا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے عاصم نے اس رشتے کے ختم ہونے کی تصدیق کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جبکہ عاصم نے اسے باہمی فیصلہ قرار دیا، میرب نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ بیان نہیں دیا۔
اپنی خاموشی توڑتے ہوئے میرب نے پہلی بار انسٹاگرام پر اپنی نانی کے انتقال کا افسوسناک انکشاف کیا تھا۔ اور اب وہ اپنے کیریئر پر فوکس کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اپنی حالیہ پوسٹ میں وہ میک اپ روم میں انگریزی گیت ‘APT’ گاتے ہوئے دکھائی دیں، جہاں ان کا نیا میک اپ اور ہیئر اسٹائل خاصا متوجہ کرنے والا تھا۔
A post common by Merub Ali (@meruub)
اس شوٹ کے دوران اداکار خوشحال خان بھی میرب کے ساتھ موجود تھے، جن کے ساتھ ان کی ایک تصویر بھی وائرل ہوئی۔ میرب کے مداحوں نے اس پوسٹ پر بڑی تعداد میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ عاصم سے علیحدگی کے بعد بھی پوری طرح خوش اور پراعتماد نظر آ رہی ہیں۔
کمنٹ سیکشن میں ایک صارف نے لکھا، ’’لگتا ہے میرب کو کوئی فرق نہیں پڑا، وہ عاصم کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ بالکل خوش ہیں‘‘۔ جبکہ کئی دیگر صارفین نے ان کے چہرے کی تازگی کو ’پوسٹ بریک اپ گلو‘ قرار دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔