ایران نے دارالحکومت تہران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں شمالی اور وسطی اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس کے بعد متعدد شہروں میں ایمرجنسی سائرن بجنے لگے اور عوام کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے اور کئی میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیل کی ایران میں فوجی تنصیبات پر تازہ بمباری، جوابی کارروائی تباہ کن ہوگی، ایران کا انتباہ

تہران میں اسرائیلی حملے، فوجی و دفاعی اہداف نشانہ

ایرانی میزائل حملوں سے قبل اسرائیل نے تہران میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب، دفاعی نظام سے وابستہ مراکز اور دیگر 170 اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں 50 سے زائد جنگی طیارے شامل تھے۔

تہران کے حساس علاقوں میں دھماکے اور آگ

عرب میڈیا کے مطابق تہران کے مرکزی علاقے میں ایرانی پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب زوردار دھماکے سنے گئے، جس کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی۔ اسی طرح ولی عصر میدان اور طالقانی روڈ کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر پر ہونے والے ڈرون حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر کا سخت ردعمل

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھے تو ایران کی جوابی کارروائی شدید اور فیصلہ کن ہوگی۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ ایران کی خودمختاری پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں غزہ جیسے مناظر، ہر طرف تباہی

جنگ کا خطرہ، خطے میں بے چینی

ایران اور اسرائیل کے درمیان تیز ہوتی اس کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو کھلی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ دونوں ممالک کی عسکری کارروائیوں سے خطے میں شدید بے چینی پھیل چکی ہے، جب کہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل ایران بیلسٹک میزائل حملہ تل ابیب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران بیلسٹک میزائل حملہ تل ابیب وی نیوز

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم