data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران/تل ابیب: ایرانی دارالحکومت تہران سے اسرائیلی فضائیہ کے وسیع پیمانے پر حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، شیراز اور اصفہاان میں ایرانی فوجی تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں، جن سے نقصان کی اطلاعات ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صنعتوں کے خلاف حملے جاری ہیں۔

دوسری جانب وسطی اور شمالی اسرائیل میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کے دوران سائرن بجنے لگے ہیں، ان علاقوں میں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک بم شیلٹرز میں رہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ میزائلوں کو مار گرانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اتوار کی شام کو صہیونی فوج نے تازہ کاارروائی میں اصفہان میں جوہری سائٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم کی پیداوار اور افزودگی کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے، تہران میں شاہ ران آئل ڈپو، فجر جام گیس فیلڈ اور دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ کہلائی جانے والی جنوبی فارس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملے کے بعد مغربی تہران میں واقع شاہران آئل ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کی ارمیا بیس پر فضائی حملہ کیا جس میں پاسداران انقلاب کے چار ارکان شہید ہوگئے۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیارے تہران کی فضاؤں میں آزادانہ پروازیں کر رہے ہیں۔ تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوجی اہداف کے خلاف آپریشن ’وعدہ صادق 3‘ کے تحت نئے میزائل حملے کی لہر کا آغاز کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد سائرن بجا دیے گئے، ایران کے اس نئے میزائل حملے میں مقبوضہ علاقوں کے شہروں تل ابیب، اشکلون اور حیفہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم