پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں 810 نئے ترقیاتی منصوبوں کو شامل کیا ہے جس کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

خیبرپختوںخوا کے نئے مالی سال کے بجٹ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سالی کے بجٹ میں مجموعی طور پر دو ہزار 159 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 323 ارب روپے مختص کیے ہیں جس میں  ایک ہزار 349 اسکیموں کے لیے 235 ارب اور 810 نئی سکیموں کے لیے 88 ارب شامل ہیں۔

بجٹ میں زراعت کی 18 نئی اور 28 پرانی اسکیمیں، محکمہ مذہبی امور کے لیے 13 نئی اور 18 پرانی، بورڈ آف ریونیو کے لیے 11 نئی 21 پرانی، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی میں دو پرانی، پانی کے 24 منصوبے اور 50 پرانے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔

اسی طرح پرائمری تعلیم کے 29 نئی اور 67 پرانی، انرجی اینڈ پاور میں 18 نئی اور 41 پرانی، ماحولیات کے لیے دو نئی اور تین پرانی، محکمہ انتظامیہ کے لیے 9 نئی اور 15 پرانی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے لیے 7 نئی اور 5 پرانی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔

خیبرپختونخوا بجٹ کے مطابق محکمہ خوراک کے لیے 2 نئی اور 6 پرانی، صحت کے لیے 93 نئی اور 89 پرانی، اعلیٰ تعلیم کے لیے 14 نئی اور 49 پرانی، محکمہ داخلہ کے لیے 22 نئی اور 46 پرانی، ہاوسنگ کی 5 نئی اور 11 پرانی، انڈسٹری کی 22 نئی اور 18 پرانی، اطلاعات کے لیے 2 نئی اور 4 پرانی، لیبر کے لیے 3 نئی اور 3 پرانی، محکمہ قانون کے لیے 10 نئی اور 32 پرانی، لائیواسٹاک کے لیے 22 نئی اور 23 پرانی، لوکل گورنمنٹ کے لیے 11 نئی اور 13 پرانی اسکیمیں شامل ہیں۔

مائنز اینڈ منرلز کے لیے 22 نئی اور 23 پرانی، ملٹی سیکٹرز کے لیے 60 نئی اور 71 پرانی، محکمہ بہبود آبادی کے لیے 4 نئی اور 4 پرانی، محکمہ ریلیف اور آبادکاری کے لیے 4 نئی اور 22 پرانی اسکیمیں شامل کر لی گئی ہیں۔

صوبائی بجٹ میں سب سے زیادہ سڑکوں کے 221 منصوبے شامل کیے گئے ہیں، 362 پرانی اسکیمیں بھی شامل ہیں، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے 7 نئی اور 4 پرانی، سوشل ویلفیئر کے لیے 8 نئی اور 24 پرانی، کھیل کے لیے 19 نئی اور 32 پرانی، سیاحت کی 23 نئی اور 37 پرانی، مواصلات کے لیے 9 نئی اور 35 پرانی اربن ڈیوپلمنٹ کے لیے 9 نئی اور 35 پرانی، پانی کی 69 اور 151 پرانی سکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پرانی اسکیمیں نئی اور 4 شامل کی کے بجٹ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم