Express News:
2026-06-02@22:36:51 GMT

پاک افغان سفارتی تعلقات میں نئے امکانات

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں جو بداعتمادی،تناؤ،ٹکراو اور الزام تراشیوں کا جو ماحول تھا، اس میں اب دونوں اطراف سے سفارتی محاذ پر بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔یہ نئے مثبت امکانات دونوں ممالک سمیت خطہ میں موجود کشیدگی کے خاتمہ یا بہتر تعلقات کی بحالی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔

حالیہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کے بعد یہ اتفاق رائے کا سامنے آنا کہ ہم دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی بنیاد پر درپیش مسائل پر بات چیت اور سیاسی حل نکالنے کی کوشش کریں گے، اہم پیش رفت ہے۔کیونکہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کا ایک اہم راستہ ہماری اپنی داخلی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی یا دہشت گردی کے خاتمہ کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔

یہ اعلان یا بڑی پیش رفت پچھلے دنوں بیجنگ میں چین ، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی ملاقات یا غیر رسمی سہہ فریقی اجلاس کے بعد کیا گیاجو ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود تعلقات میں خرابی ختم ہورہی ہے بلکہ اس کے خاتمے میں چین کا کردار بطور ثالثی کے بڑھ گیا ہے اور چین کی یہ خواہش کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوں،پاکستان کے لیے امید کا نیا پہلو ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے نئے امکانات حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے ماحول کے بعد سامنے آئے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ سفارتی محاذپر جو برتری پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں ملی ہے اس نے یقینی طور پر پاکستان کے لیے نئے مثبت امکانات کو پیدا کیا ہے۔

کیونکہ ایک عمومی سوچ دنیا اور خطہ کی سیاست میں یہ پیدا ہوگئی تھی کہ موجودہ حالات میں افغانستان میں موجود طالبان حکومت کا جھکاؤ بھارت پر بڑھ گیا ہے۔افغانستان کی بھارت پر بڑھتی ہوئی سیاسی پینگین یا ان کا بھارت کی طرف جھکاؤ خود پاکستان کے لیے خطہ کی سیاست میں نئے خطرات کو جنم دے رہا تھا۔پاکستان تواتر کے ساتھ اپنے اس موقف کو بار بار پیش کررہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کا پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال میں جہاں یقینا افغان طالبان حکومت کی حمایت موجود تھی، وہیں افغانستان اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی میں بھارت کی ریاست کی سطح پر سرپرستی کے پہلو کو بھی کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان حالات میں اب اگر افغانستان نے سفارتی بنیادوں پر پاکستان سے تعلقات کو نئے سرے سے مثبت طور پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے پاکستان کی سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی سمجھا جاسکتا ہے۔یقینا یہ جو کچھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت پیش رفت آگے بڑھی ہے اس پر بھارت کو یقینا تشویش ہوگی اور وہ ان بہتری کی کوششوں کو پاکستان اور افغانستان کے تناظر میں خراب اور بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔کیونکہ بھارت کو یقین تھا کہ افغان طالبان کا جھکاو کسی بھی صورت میں پاکستان کی حمایت کی صورت میںنہیں آئے گا اور وہ کھل کر بھارت کی حمایت کرے گا،لیکن ایسا نہیں ہوسکا جو یقینی طور پر بھارت کی اپنی سفارت کاری کے عمل کو کئی محاذوں پر چیلنج کرتا ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ بیجنگ اجلاس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو کم کیا ہے اور خاص طور پر اس میں چین کا اپنا صلح میں سہولت کاری کا کردار نہ صرف اہمیت رکھتا ہے بلکہ بڑھ گیا ہے۔

افغانستان کا پاکستان کی طرف دوبارہ جھکاؤ یا سفارت کی بنیاد پر عملا تعلقات کی بحالی میں سامنے آناچین کی مصالحت کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جو کچھ بھارت کے ساتھ ہوا ہے اس نے کابل میں موجود افغان طالبان میں نئی سوچ اور فکر کو جنم دیا ہے ۔ پاکستان افغان حکومت کی حمایت اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور اس کھیل میں بھارت کے کردار پر بہت سے شواہد بھی پیش کیے مگر افغان حکومت وہ کچھ نہ کرسکی جس کی ہمیں توقع تھی۔اب بھی تعلقات کی بہتری کا راستہ یہی ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کی سرپرستی بند کرے۔

پاکستان نے کئی بار افغان حکومت کی خواہش پر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیا اور خود افغان طالبان کی یہ خواہش تھی کہ ہم ٹی ٹی پی سے بات چیت کا راستہ نکالیں،لیکن اس تناظر میں ہونے والی تمام بات چیت کی کوششوں کاٹی ٹی پی نے کوئی بھی مثبت جواب نہیں دیا اور پاکستان کے خلاف اپنی مخالفانہ اور دہشت گردی پر مبنی کاروائیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افغان حکومت بھارتی حکومت پر بہت انحصار کررہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ بھارت کی معاشی طاقت کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنے لیے نئے معاشی امکانات کو پیدا کرسکتی ہے۔لیکن اب ایسے لگ رہا ہے کہ کابل کی سوچ بدل رہی ہے اور ان کو احساس ہوگیا ہے کہ بھارت کی اہمیت اپنی جگہ مگر نئے حالات میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی پالیسی ان کے مفاد میں نہیں ہے۔

کابل میں ابھرنے والی نئی سوچ میں چین کی سفارت کاری کا بھی بڑا عمل دخل ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت پیش رفت ہورہی ہے اس میں چین کا کردار اہم ہے اور جب تک اس سوچ کے ساتھ کھڑا ہے کہ پاکستان اور افغانستان بداعتمادی کے ماحول سے نکلیں تو ہمارے لیے افغانستان سے تعلقات کی بہتری میں کئی نئے اشارے یا نئے امکانات ہیں جن کو ہم بنیاد بنا کر سفارت کاری کے محاذ پر بھارت کے مقابلے میں اپنے کارڈ زیادہ بہتر طور پر کھیل سکتے ہیں۔

اب پاکستان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ چین کی مدد کے ساتھ افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں نئی جہتوں کو یا نئے امکانات کو تلاش کرے اور روائتی سوچ اور فکر سے باہر نکل کر کچھ غیر معمولی اقدمات کی طرف پیش رفت کرے ۔پاکستان کو خبردار رہنا ہوگا کہ بھارت اپنی پوری کوشش کرے گا کہ اسلام آباد اور کابل میں تعلقات کی بہتری کی ہر کوشش کو وہ ناکام بنائے ۔

بھارت افغانستان کی حکومت کی مدد سے پاکستان میں اپنی پراکسی جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر کمزور رکھا جاسکے۔اس لیے جہاں ہمیں ایک طرف سفارتی کوششوںسے افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے ہیں وہیں بھارت سے تعلقات کی بہتری کو ممکن بنائے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارے پاس متبادل پالیسی کے تحت بھارت کی پاکستان مخالف ایجنڈے کا روڈ میپ ہونا چاہیے تاکہ ہم خود کومحفوظ بناسکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تعلقات کی بہتری افغان طالبان نئے امکانات افغان حکومت پاکستان کی پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان کو سے تعلقات کی حمایت کہ بھارت حکومت کی بھارت کی بھارت کے ٹی ٹی پی کے ساتھ پیش رفت میں چین کی کوشش ہے اور چین کی

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟