محرم الحرام 2025ء، انتظامیہ شیعہ علماءکرام، جعفریہ الائنس اور دیگر تنظیموں سے تعاون کو یقینی بنائے، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے انچارج ہائیڈرنٹس سیل کو یکم محرم الحرام سے یوم عاشورہ تک پانی سے بھرے ٹینکرز کی مساجد، امام بارگاہوں، مجالس، سبیلوں اور جلوس کے مقامات پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ جعفریہ الائنس سمیت دیگر مذہبی تنظیموں کی جانب سے لگائی جانے والی سبیلوں کو پانی کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی و چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر چیف ایگزیکٹو آفیسر واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے محرم الحرام کے مقدس ایام کے پیشِ نظر شہر بھر میں فراہمی و نکاسی آب کے غیر معمولی اور مثر انتظامات کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ اس ضمن میں اسٹاف آفیسر ٹو سی ای او واٹر کارپوریشن الہی بخش بھٹو نے جاری کردہ ایک مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایات دی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ منتخب عوامی نمائندوں مذہبی قائدین بالخصوص شیعہ علما کرام، جعفریہ الائنس اور دیگر مذہبی تنظیموں سے قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے ترجیحی اقدامات اور مکمل انتظامات کی تکمیل کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے آغاز سے قبل شہر بھر میں فراہمی و نکاسی آب کے تمام انتظامات مکمل کیے جائیں خصوصاً مساجد، امام بارگاہوں، مجالس، سبیلوں اور جلوس کے روٹس پر پانی کی فراہمی اور سیوریج نظام میں بہتری کو ترجیح دی جائے۔ اس ضمن میں تمام اضلاع کے سپرنٹنڈنگ انجینئرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور مجالس و جلوسوں کے دوران پانی و صفائی کے تمام امور کی نگرانی کریں تاکہ عزادارانِ امام حسینؑ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو، تمام ایگزیکٹو انجینئرز (واٹر) کو اپنے علاقوں میں پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایگزیکٹو انجینئرز (سیوریج) کو جلوس و مجالس کے مقامات پر صفائی سیوریج لائنوں کی درستگی اور مین ہولز کی حالت بہتر بنانے کی خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔ ایگزیکٹو انجینئر (ورکشاپ) کو جیٹنگ و سکشن مشینوں کی مکمل تیاری اور ڈرائیوروں کی دستیابی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی محرم الحرام کی عام تعطیلات کے دوران عملے کی حاضری کے لیے ڈیوٹی روسٹرز مرتب کرنے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔ انچارج ہائیڈرنٹس سیل کو یکم محرم الحرام سے یوم عاشورہ تک پانی سے بھرے ٹینکرز کی مساجد، امام بارگاہوں، مجالس، سبیلوں اور جلوس کے مقامات پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ جعفریہ الائنس سمیت دیگر مذہبی تنظیموں کی جانب سے لگائی جانے والی سبیلوں کو پانی کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا سکے۔
فوکل پرسن برائے ہائیڈرنٹس سیل واٹر ٹینکرز کی فراہمی اور دستیابی کی نگرانی کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پانی بروقت اور مسلسل فراہم کیا جائے۔ محرم الحرام کے انتظامات کے لیے واٹر کارپوریشن کی جانب سے چیف انجینئر واٹر محمد علی شیخ، چیف انجینئر سیوریج منیر احمد بھٹی، ایگزیکٹو انجینئر ورکشاپ ڈویڑن شفقت حسین مگھن اور فوکل پرسن ٹو سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر کو فوکل پرسنز نامزد کیا گیا ہے اور تمام متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان فوکل پرسنز سے بھرپور تعاون کریں تاکہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو انجینئر ہدایت دی گئی ہے محرم الحرام کے ہائیڈرنٹس سیل جعفریہ الائنس کی ہدایت دی کی جانب سے بنانے کی پانی کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔