data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے لیے 10 سال قید کی سزا کی تجویز مسترد کردی گئی، اراکین کمیٹی نے 10 سال تک قید کی سزا تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں ٹیکس فراڈ کے مقدمات میں سزا اور جزا سے متعلق مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے لیے 10 سال قید کی سزا کی تجویز مسترد کردی گئی جبکہ اراکین کمیٹی کی جانب سے 10 سال تک قید کی سزا تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

سینیٹر محسن عزیر نے ریمارکس دیے کہ اس سے بہتر ہے کہ عمر قید کی ہی سزا دے دیں، قتل اور ٹیکس چوری کے جرم کو ایف بی آر برابر تصور کرتا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایک ارب سے زائد مالیت کے ٹیکس فراڈ کے جرم کی سزا 10سال قید تجویز ہے، ایک کروڑ سے ایک ارب تک کے ٹیکس فراڈ کو 5 سال قید کی سزا ہونی چاہیئے، ایک کروڑ سے کم مالیت کے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے لیے کم سزا مقرر کی جائے۔

قائمہ کمیٹی نے ٹیکس فراڈ میں مالیت کے سلیبز بنانے کی سفارش کر دی، اراکین کمیٹی نے کہا کہ بہتر ہے کہ قید کی سزا کی بجائے جرمانہ عائد کیا جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس چوری میں ملوث شخص کو پتہ ہونا چاہیئے کہ اس کی سزا قید ہے۔ چئیر مین ایف بی آر نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ حکومت کے پیسے لوگ کھا جائیں تو انکو کوئی سزا نہ ملے، ایک سائیکل اور موٹر سائیکل کی چوری پرقید کی سزا ہے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جج کو سزا کا اختیار ہے تو گرفتاری کا اختیار بھی جج کو ہونا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں ملوث افراد سال قید کی سزا ٹیکس فراڈ میں قید کی سزا کی قائمہ کمیٹی ایف بی ا ر نے کہا کہ کمیٹی نے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار