خزانہ کمیٹی کی اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم ، آن لائن اشیا پر ٹیکس عائد کرنیکی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
خزانہ کمیٹی کی اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم ، آن لائن اشیا پر ٹیکس عائد کرنیکی سفارش WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم اور آن لائن اشیا پر ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کردی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فنانس بل 2025-26 کے تحت اہم فیصلے کیے گئے۔کمیٹی نے اسٹیشنری آئٹمز پر عائد 10 فیصد سیلز ٹیکس کو کم کرکے صفر کرنے کی سفارش کردی۔
اسٹیشنری ایسوسی ایشن کے نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال اسٹیشنری پر کوئی ٹیکس نہیں تھا تاہم رواں مالی سال میں 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا اور آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں بھی اسے برقرار رکھنے کی تجویز تھی۔اجلاس میں آن لائن اشیا پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ای کامرس کے ذریعے ہونے والے کاروبار میں سیلز ٹیکس صارف سے وصول کیا جاتا ہے لیکن یہ رقم ایف بی آر کو جمع نہیں ہوتی اس خلا کو پر کرنے کے لیے کوریئر سروسز کو کلیکشن ایجنٹ بنایا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پاس سیلر کی رسید ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی طور پر فراہم کی جانے والی سروسز پر سیلز ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
کمیٹی نے ٹیکس فراڈ سے متعلق اہم فیصلے بھی کیے اور فنانس بل میں ٹیکس فراڈ میں شریک جرم کے لیے نئی شق شامل کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کا پروفائل کسی دوسرے کے ذریعے فراڈ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔کمیٹی نے جان بوجھ کر ٹیکس فراڈ کرنے والوں کے خلاف بل میں ترمیم کی منظوری بھی دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران کا آئی اے ای اے سے تعاون محدود کا اعلان، جوہری تنصیبات حملوں پرخاموشی ناقابل قبول، دفتر خارجہ ایران کا آئی اے ای اے سے تعاون محدود کا اعلان، جوہری تنصیبات حملوں پرخاموشی ناقابل قبول، دفتر خارجہ سندھ میں شاپنگ بیگز پر پابندی ، خلاف ورزی پر گرفتاریاں اور جرمانے ہونگے برطانیہ کا اسرائیل کی مدد کیلئے مشرقِ وسطی میں جنگی بیڑے تعینات کرنے کا فیصلہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں آپریشن، خوارجی دہشت گرد مولوی نذیر کمانڈر ہلاک راولپنڈی میں ٹریفک وارڈن سے بدتمیزی ، پیکا ایکٹ کے تحت 10 سے 15 وکلا کے خلاف مقدمہ درج ایران کے اسرائیل پر پے در پے حملے، امریکا نے یوکرین سے میزائل دفاعی نظام مشرق وسطی منتقل کردیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آن لائن اشیا پر پر سیلز ٹیکس اسٹیشنری پر ٹیکس عائد
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔