پنجاب کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
لاہور:
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کل (پیر کو) مالی سال 2025-26 کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
اس سے قبل پنجاب کابینہ سے خصوصی اجلاس میں بجٹ کی منظوری لی جائے گی۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب کا آئندہ بجٹ بھی عوام دوست اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے ترقیاتی ویژن کا آ ئینہ دار ہوگا۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، پہلے سے لاگو ٹیکسز کی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وسائل میں اضافے کے لیے صوبائی اثاثوں کا موثر استعمال پنجاب حکومت کی ترجیحی پالیسی ہوگی، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے کامیاب منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں خواتین، بچوں معذور افراد، محنت کشوں سمیت تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے تکنیکی و مالی معاونت مہیا کی جائے گی، کسان کارڈ کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
وزیر خزانہ پنجاب نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ معاشی ترقی، شفافیت اور سماجی تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہوگا، بجٹ میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی جائے گی، پسماندہ اضلاع خصوصاََ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جائے گی جائے گا کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔