قائمہ کمیٹی نے اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، محصولات و اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں اہم مالیاتی معاملات کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے میں استعمال ہونے والی اسٹیشنری اشیا پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی باقاعدہ سفارش کی گئی۔
اجلاس میں اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر رائے دی کہ موجودہ معاشی حالات میں تعلیم سے متعلق اشیا پر ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ہے، جس سے نہ صرف متوسط اور غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ تعلیم جیسے بنیادی حق تک رسائی بھی مشکل ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ٹیکس اہداف کا حصول، ہر طرح کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنیکا فیصلہ
تعلیم پر ٹیکس عوام کے ساتھ ظلم ہے: سلیم مانڈوی والا
کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اسٹیشنری کا تعلق براہِ راست تعلیمی عمل سے ہے، اور بچوں کی کاپی، پنسل، قلم، ربر، رنگ اور دیگر تعلیمی سامان پر سیلز ٹیکس عائد کرنا عام آدمی کی تعلیمی ضروریات کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم سے جڑے سامان پر ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دے کر عوام کو ریلیف دے، تاکہ ملک میں شرح خواندگی بڑھائی جا سکے اور بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات مہیا کی جا سکیں۔
اراکین کمیٹی کا مشترکہ مؤقف
اجلاس میں شریک سینیٹرز نے بھی اس سفارش کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیم کے اخراجات پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، ایسے میں اسٹیشنری پر ٹیکس عام گھرانوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اسٹیشنری مصنوعات کو مکمل طور پر سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے۔
تاجر برادری اور والدین کا دیرینہ مطالبہ
واضح رہے کہ تاجر برادری اور والدین کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اشیا پر عائد ٹیکسز ختم کیے جائیں تاکہ بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولتیں مہنگائی کے بوجھ سے آزاد رکھ کر فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں حکومت مشکل میں پھنس گئی، بجٹ کی منظوری سے قبل اہم اتحادی جماعت نے تحفظات کا اظہار کردیا
آئندہ بجٹ میں عملدرآمد کی امید
کمیٹی کی سفارشات کو وزارتِ خزانہ کو ارسال کیا جائےگا، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں اس پر غور کرتے ہوئے اسٹیشنری پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تعلیمی عمل ٹیکس استثنیٰ سفارش سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعلیمی عمل ٹیکس استثنی سفارش سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی وی نیوز سلیم مانڈوی والا سیلز ٹیکس پر ٹیکس
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب