گیری کرسٹن نے پاکستان کرکٹ ٹیم سے علیحدگی کی اصل وجوہات بتا دیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم (وائٹ بال) کے سابق پاکستانی ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے اپنی مختصر مدت کی کوچنگ کے دوران درپیش مسائل پر خاموشی توڑ دی ہے، اور اپنی قبل از وقت رخصتی کی بڑی وجوہات میں اختیارات کی کمی اور بیرونی مداخلت کو قرار دیا ہے۔
معروف کرکٹ پوڈکاسٹ ’وزڈن کرکٹ‘ پر گفتگو کرتے ہوئے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے اپنے تجربے کو ’پُرآشوب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی سمجھ گئے تھے کہ اُن کا اس ٹیم پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیے پی سی بی سے اختلافات، قومی وائٹ بال ٹیم کے کوچ گیری کرسٹن مستعفی
’یہ چند مہینے بہت ہنگامہ خیز تھے۔ میں نے بہت جلد محسوس کیا کہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب مجھے سلیکشن سے الگ کر دیا گیا اور ایسی ٹیم دی گئی جسے میں خود نہیں چُن سکتا تھا، تو بطور کوچ کام کرنا مشکل ہو گیا۔‘
کوچنگ کے لیے واپسی کا امکان مگر شرائط کے ساتھاگرچہ کرسٹن نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی دوبارہ کوچنگ کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب حالات بالکل مختلف ہوں۔
’اگر مجھے کل کلاں پاکستان واپس بلایا جائے، تو میں ضرور آؤں گا لیکن میں صرف کھلاڑیوں کی خاطر آؤں گا اور وہ بھی موزوں میں۔‘
یہ بھی پڑھیے گیری کرسٹن مستعفیٰ، ’عاقب جاوید حالات خراب کر رہے ہیں‘، کرکٹ پرستار پھٹ پڑے
انہوں نے زور دیا کہ کرکٹ معاملات صرف تجربہ کار کرکٹ افراد کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس ’بیرونی دباؤ‘ کی مذمت کی جو ٹیم کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔
’جب ٹیمیں کرکٹ اصل لوگوں کے بجائے دوسروں کے ہاتھوں میں چلتی ہیں، اور جب باہر سے شور بہت زیادہ ہو اور وہ شور بہت بااثر ہو تو ٹیم کی قیادت کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سمت طے کرے۔‘
پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریفگیری کرسٹن نے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’زبردست‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ کم وقت گزارنے کے باوجود ان کے لیے محبت رکھتے ہیں۔
’مجھے پاکستانی کھلاڑی بہت پسند آئے۔ وہ بہت دباؤ میں ہوتے ہیں، اور جب ہارتے ہیں تو اُن پر تنقید کا طوفان آ جاتا ہے۔‘
کامیابی ممکن ہے، مگر…آخر میں کرسٹن نے کہا کہ کامیابی ممکن ہے، اگر ٹیم کو درست ماحول فراہم کیا جائے۔
’جب مداخلت نہ ہو، اور ٹیم باصلاحیت ہو، تو کامیابی خودبخود مل جاتی ہے۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کرکٹ گیری کرسٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کرکٹ گیری کرسٹن پاکستان کرکٹ ٹیم گیری کرسٹن کے لیے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔