برسلز، 130 تنظیموں کا فلسطینی عوام کے حق میں مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
یورپین دارالحکومت برسلز میں ایک سو تیس (130) تنظیموں نے آج فلسطینی عوام کے حق اور اسرائیل کی مذمت میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بوڑھوں، بچوں اور معذوروں سمیت ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔
منتظمین نے اس مظاہرے کو ‘ریڈ لائن’ کا نام دیا تھا جس میں شرکاء سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ لباس کا کچھ حصہ یا اپنے ساتھ کوئی سرخ رنگ کا کپڑا ضرور لیکر آئیں۔
اس مظاہرے کو ریڈ لائن کا نام دینے کا مقصد عوام کی جانب سے یورپین حکومتوں کی بے حسی کو اجاگر کرکے یہ بتانا بھی تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں پر یکطرفہ طور پر مسلط کی جانے والی تباہی کے خلاف اب عوام کی سرخ لائن آچکی ہے۔
یہ مظاہرہ نارڈ اسٹیشن سے شروع ہوا اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا یورپین ہیڈ کوارٹرز پر جا کر اختتام پذیر ہو گیا۔
مظاہرے کے آغاز میں بیلجیئم کے معروف فنکاروں نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے نہ صرف پیغامات دیے بلکہ اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔
مظاہرے کی ابتداء میں موجود بینر پر تحریر تھا کہ جب تک سیاستدان اپنی لائن نہیں کھینچتے ہم (عوام) غزہ کے لوگوں کیلئے اپنی ریڈ لائن کھینچ رہے ہیں۔
سارے راستے مظاہرے کے شرکاء اسرائیل کی مذمت میں مختلف نعرے لگاتے رہے جبکہ امریکن ایمبیسی کے قریب سے گزرتے ہوئے انہوں نے شیم آن امریکہ اور شیم آن یو کے نعرے بھی بلند کیے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ یورپین حکومتیں اسرائیل کے خلاف اپنی خاموشی کو ختم کریں اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔