ایران سے پاکستانی زائرین کا انخلا مکمل کر لیا گیا، وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ کے انخلا کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں
وزارت خارجہ میں کرائسس مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے ، اسحق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ایران سے 450 پاکستانی زائرین کا انخلا گزشتہ روز مکمل کر لیا گیا ہے ، ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ کے انخلا کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 154 طلبا کو نکالا جائے گا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران سے 450زائرین کا انخلا گزشتہ روز مکمل کر لیا گیا ہے اور ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ کے محفوظ انخلا کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 154طلبا کو نکالا جائے گا جبکہ ایران میں پاکستانی سفارتخانہ عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے بھی رابطے میں ہے اور ان کی محفوظ رہائش اور ممکنہ انخلا کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ وزارت خارجہ میں کرائسس مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کیے جا رہے ہیں انخلا کے لیے ایران میں
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔