پیرس ایئر شو میں اسرائیلی ہتھیارساز5 کمپنیوں کے اسٹالز بند کرا دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: فرانس نے پیر کے روز پیرس ائیر شو میں 5 اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنیوں کے اسٹالز تک رسائی روک دی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی کمپنیوں کی جانب سے ’جارحانہ ہتھیاروں‘ کی نمائش کے باعث کیا گیا جن میں وہ ہتھیار بھی شامل تھے جو مبینہ طور پر غزہ میں استعمال ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ان ہتھیاروں کی نمائش فرانس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق جن کمپنیوں کے اسٹالز بند کیے گئے ہیں ان میں اسرائیل ایرواسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی)، رافیل، یوویژن، ایلبٹ اور ائیروناٹکس شامل ہیں۔
ان کمپنیوں میں رافیل، ایلبٹ اور آئی اے آئی گائیڈڈ بم اور میزائل تیار کرتی ہیں، جبکہ یوویژن اور ایئروناٹکس ڈرونز تیار کرنے والی کمپنیاں ہیں۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
خیال رہے کہ فرانسیسی عدالت کی جانب سے این جی اوز کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد 9 اسرائیلی کمپنیوں کو پیرس ائیر شو میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔ این جی اوز کا مؤقف تھا کہ ان اسرائیلی کمپنیوں کو غزہ جنگ میں مبینہ کردار کی بنیاد پر نمائش میں شرکت نہیں کرنے دینی چاہیے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ائیر شو میں موجود 4 دیگر اسرائیلی اسٹالز بدستور کھلے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔