data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور تجارتی راستوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور عسکری مراکز پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو اومان اور متحدہ عرب امارات سے جوڑتا ہے، روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کا مرکز ہے، جو عالمی تیل کی طلب کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ اس راستے سے قدرتی گیس کی ترسیل بھی کی جاتی ہے، جس کی بندش سے عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔

ایران کے ایک اعلیٰ قانون ساز، اسماعیل کوثری نے گزشتہ دنوں اعلان کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے جواب میں یہ اقدام اٹھایا جا سکتا ہے۔

خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے یہ قدم اٹھایا تو عالمی تیل کی قیمتوں میں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک اضافہ متوقع ہے، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

اس طرح کے اقدام سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر امریکا سے جوابی کارروائی کی توقع رکھی جا سکتی ہے، جس کے خطے میں بحری فوجی اثاثے ہیں۔

یاد رہے کہ 1980ء  اور 1988ء  کے درمیان ایران عراق تنازع کے دوران بھی، جس میں دونوں طرف سے لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، دونوں ممالک نے خلیج میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جسے ٹینکر وار کے نام سے جانا جاتا ہے، تاہم ہرمز کو کبھی بھی مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔

2019ء  میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کے درمیان، متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے ساحل کے قریب آبنائے فجیرہ کے قریب 4 بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا۔ واشنگٹن نے واقعے کا الزام تہران پر عائد کیا تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت 71.

80 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوا تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو عالمی افراط زر اور اقتصادی سست روی کا سبب بن سکتی ہیں۔

پاکستان جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، ایران اور سعودی عرب سے تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز ہی پر انحصار کرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو پاکستان کی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایران اسرائیل کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور آبنائے  ہرمز کی بندش کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات کا سبب بن سکتی ہے، جنہیں توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تیل کی قیمتوں میں ڈالر فی بیرل تک توانائی کی کے درمیان ایران کے کی ترسیل جو عالمی سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار