اسرائیل نے حملہ کرکے زیادتی کی، ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے سنگین زیادتی کی ہے، ہم ایسے وقت میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
لندن میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی، پاکستان کے جوہری پروگرام اور ملکی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے، ٹرمپ
’ایٹم بم امن کے لیے بنایا، جنگ کے لیے نہیں‘
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ آج ایک ایٹمی ملک ہے۔ ہم نے یہ ایٹمی ہتھیار جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے بنائے، یہ ہماری خودمختاری، وقار اور تحفظ کی ضمانت ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ دفاعی طاقت کے باوجود پاکستان کو امن، استحکام اور علاقائی ہم آہنگی کا داعی رہنا چاہیے، نہ کہ کسی تنازعے کو ہوا دینے والا ملک بننا چاہیے۔
نواز شریف نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے زیادتی کی ہے، ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران پر کئی اہم سویلین اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں اسپتال، فائر اسٹیشن اور رہائشی عمارات شامل ہیں۔ ان حملوں کے بعد ایران نے بھی تل ابیب پر جوابی کارروائی کی وارننگ جاری کی ہے۔
ملکی سیاست پر بھی اظہار خیال
نواز شریف نے ملکی سیاسی منظرنامے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ شہباز شریف اور مریم نواز نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں۔ ملک اب ان مشکلات سے باہر نکلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں پہلے صرف تنزلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں تل ابیب خالی کردیں، ایرانی پاسداران انقلاب کی اسرائیلی شہریوں کو وارننگ
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں اور موجودہ حکومت کو مکمل موقع دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل ایران کشیدگی ایٹمی پروگرام سابق وزیراعظم مسلم لیگ ن نواز شریف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران کشیدگی ایٹمی پروگرام مسلم لیگ ن نواز شریف وی نیوز نواز شریف نے اسرائیل نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔