کراچی: فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت دو افراد زخمی ہوگئے جس میں نوجوان ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ لکی چڑھائی پرانا ٹول پلازہ ناردرن بائی پاس کے قریب فائرنگ سے نوجوان زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لیجایا گیا۔
موچکو پولیس کے مطابق نوجوان کی شناخت 20 سالہ عارف کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پیش آیا ہے جس کی مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا ملیر پانی والے بابا مزار کے قریب فائرنگ کے پراسرار واقعے میں خاتون زخمی ہوگئی جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ملیر سٹی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی شناخت 35 سالہ فاطمہ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔