مچھ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکہ، ایک اہلکار زخمی، تخریب کاری کا شبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع بولان میں واقع مچھ اور آبِ گم کے درمیانی علاقے میں پیر کی صبح ریلوے ٹریک کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ریلوے کا ایک ملازم زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق دھماکہ اُس وقت پیش آیا جب ریلوے کی ایک ٹیم معمول کے مطابق ٹریک کی جانچ اور نگرانی پر مامور تھی۔ دھماکے سے ریلوے ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ حصہ فوری مرمت کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
زخمی ملازم کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا تاکہ دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ مزید خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ خیز مواد ریلوے ٹریک کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ ماہرین کی ٹیم جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کر رہی ہے تاکہ مواد کی نوعیت اور نصب کرنے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس ممکنہ تخریب کاری میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبِ گم بلوچستان بم ڈسپوزل اسکواڈ بولان دھماکا ریلوے ٹریک سرچ آپریشن مچھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بم ڈسپوزل اسکواڈ بولان دھماکا ریلوے ٹریک مچھ ریلوے ٹریک
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔