لاہور:

پاکستان ریلوے نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کے لیے صرف 300 روپے میں چائے، بسکٹ اور انتہائی آرام دے کرسیاں، صوفے سمیت مفت وائی فائی اور کاروباری مصروفیات کو دوران سفر جاری رکھنے کے لیے جدید کمپیوٹرائز کاوئٹر بھی مہیا کر دیا۔

مسافر حیران و پریشان، کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر یہ سہولیات ملیں گی۔۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے نے لاہور ریلوے اسٹیشن کا نقشہ ہی بدل ڈالا، عام مسافروں اور بزنس مینوں کے لیے ورلڈ کلاس لیول کے الگ الگ ویٹنگ لاونج بنا ڈالے، ایسا لانچ جہاں پہ صرف 300 روپے میں اپ چائے، کافی، بسکٹ، پیٹیز سمیت دیگر اشیاء سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

عام فیملی لاونج میں بیھٹنے کے لیے کوئی چارجز نہیں لیکن آرام دے کرسیاں، مفت وائی فائی اور ایئر کنڈیشنڈ ماحول دستیاب ہے جبکہ سی آئی پی لاونج میں 300 روپے چارجز رکھے گئے ہیں، لوگ داخل ہوتے ہی حیران و پریشان ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ مسافر تو ایسے تھے جو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید یہ کسی اور کا دفتر ہے یا کوئی ہوٹل ہے تو دروازہ بند کر کے واپس جانے لگے۔

دروازے پر کھڑے ویٹر نے جب ان کو کہا کہ یہ مسافروں کے لیے ہی ہے، تو وہ اندر داخل ہو کر حیران و پریشان رہے کہ اس کی خوبصورتی اور وہاں پہ ملنے والی اشیائے خرونوش نہ صرف سستی بلکہ ذائقے دار اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈ کی پروڈکٹ وہاں پر مل رہی تھیں۔

وہاں پر آنے والے مسافر انتہائی خوش ہوئے اور جذبات میں آتے ہوئے کہنے لگے کہ شاید ہم کسی اور ملک کے ریلوے اسٹیشن پر آچکے ہیں۔ پاکستان ریلوے نے تقریباً سوا سو سال بعد لاہور کے ریلوے اسٹیشن کو اَپ گریڈ کیا ہے، یہاں پر برقی سیڑھیوں کے علاوہ بیٹھنے کے لیے دو لاونج بنائے ہیں۔ فیملی لاونج میں مسافروں کو بغیر کسی چارجز جبکہ بزنس لاونج میں جس کو سی آئی پی لاونج بھی کہا جاتا ہے، 300 روپے دے کر آپ نہ صرف اندر بیٹھ سکتے ہیں بلکہ وائی فائی کی فری میں سہولت سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، بزنس مینوں کو اپنی ای میل اور دیگر بزنس کی مصروفیات کے پیش نظر کاؤنٹر بھی بنائے گئے ہیں جہاں پر جدید کمپیوٹرائز سسٹم ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔ گاڑی کے انتظار میں یا کسی مسافر کو لینے کے لیے آنے والوں کے لیے بھی اس میں بہت کچھ ہے۔

سی آئی پی لان انتہائی دلکش بنایا گیا ہے۔ کلر فل کارپٹ، آرام دہ سیٹیں بلکہ سونے کے لیے سلیپنگ، آرام دہ سیٹیں  بھی موجود ہیں جس کے لیے وہاں پر ایک الگ سے کیبن بھی بنایا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دو روز قبل اس کا افتتاح کیا تھا تو وہ خود بھی دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئے تھے۔

مسافر عدیل زبیر اور اکرام کا کہنا تھا کہ وہ کراچی جانے کے لیے جب لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے تو صفائی ستھرائی اور ویٹنگ ایریا دیکھ کر پہلے تو پریشان ہوئے اور پھر ان کے ذہن میں یہ تھا کہ شاید اس کے چارجز ہزار روپے سے زائد ہوں گے لیکن جب یہاں آکر پتہ چلا کہ صرف 300 روپے دے کر آپ نہ صرف ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا لے سکتے ہیں بلکہ 300 روپے میں آپ کو چائے، بسکٹ وار سینڈوچ بھی مل سکتے ہیں تو وہ حیران و پریشان ہوئے اور بار بار یہی پوچھتے رہے کہ یہ 300 روپے ہی ہیں۔

بہرحال، پاکستان ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاہور، کراچی، ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد اور دیگر ریلوے اسٹیشنز کو بھی اسی طرح خوبصورت اور مسافروں کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اَپ گریڈ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ٹرینوں کی بروقت روانگی کے لیے بھی نئی کوچز اور ٹرین کو آؤٹ سورس کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

مزید 11 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کر کے ان ٹرینوں کو ریلوے انتظامیہ کی سپر ویژن میں چلایا جائے گا تاکہ ریلوے سے سفر کرنے والے مسافروں کو عالمی معیار کی وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو کی جانی چاہیے۔

پاکستان ریلوے حکام کے مطابق پاکستان ریلوے سے سالانہ چار کروڑ سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں جن کو جدید سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور جلد ہی ریلوے ٹریک کی اَپ گریڈیشن کا کام بھی شروع ہو جائے گا تاکہ مسافر جلد از جلد اپنی منزل مقصود پر پہنچے پائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لاہور ریلوے اسٹیشن ریلوے اسٹیشن پر پاکستان ریلوے پریشان ہو لاونج میں ہوئے اور سکتے ہیں ہوئے ا کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا