سوات کی معروف سماجی شخصیت اور والی سوات کی پوتی محترمہ ذیب النسا ارشد جیلانی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی وزیر فضل حکیم خان تاریخی والی سوات بنگلے پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں، جو سوات کے عوام کے ثقافتی ورثے پر حملے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوات: پاکستان کا ماحول دوست گاؤں جہاں کوئی بھی بے روزگار نہیں ہے

ذیب النسا نے الزام لگایا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں بنگلے کے کچھ حصے کو خریدا گیا ہے اور اب پورے بنگلے پر قبضے کی سازش جاری ہے، یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ سوات کی تاریخ، شناخت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے، جسے کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے سوات کی سول سوسائٹی، وکلا برادری، صحافیوں، ڈاکٹرز، تاجر تنظیموں، خواتین، نوجوانوں اور دیگر طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 جولائی بروز اتوار، سہ پہر 3 بجے سوات بنگلے میں ہونے والے اہم اجلاس میں بھرپور شرکت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات کی سیر یا خطرات کا سفر

ذیب النسا ارشد جیلانی کا کہنا تھا کہ، میں اس قبضہ مافیا کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ سوات کے عوام کی شناخت ہے۔ ہمیں متحد ہو کر اپنے ورثے کی حفاظت کرنی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بنگلہ زیب النسا سوات صوبائی وزیر فضل حکیم خان قبضہ والی سوات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ زیب النسا سوات فضل حکیم خان والی سوات والی سوات ذیب النسا سوات کی

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں