ایرانی حملوں سے تباہی غزہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں،اسرائیلی شہری
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کی جانب سے حیفا میں گذشتہ رات جس رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں اکثر افراد اب بھی صدمے میں ہیں لیکن حکومت کے ایران پر ابتدائی حملوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب کی رائے نہیں ہے۔
ایک رہائشی اورنا کے مطابق اسرائیل کے ایران پر حملوں کا وقت درست نہیں تھا۔ بی بی سے بات کرتے ہوئے
وہ کہتی ہیں کہ ’حالانکہ یہ اہم ہے کیونکہ وہ (ایران) جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے لیکن حملوں کا وقت درست نہیں تھا۔
اب بھی ہمارے 20 یرغمالی غزہ میں زندہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں بھلا دیا گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم زندہ اسرائیلی کی واپسی کے لیے لڑیں، ہم مزید لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔
’اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ہتھیار رکھے جائیں اور مذاکرات کیے جائیں بجائے اس کے کہ مزید لوگوں کو ہلاک کیا جائے۔‘
ان کے بیٹے ایلون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جمعے کو ایران پر ابتدائی حملوں نے غزہ سے توجہ ہٹا دی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے باعث تکلیف کا شکار لوگوں کے لیے میری ہمدردی بڑھ رہی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو یہ ایران لے کر جانا ٹھیک لگتا ہے۔ وہ انتباہ ایران کو دے رہے ہیں جو وہ غزہ کے لوگوں کو دیا کرتے تھے۔‘
وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کریں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے اسرائیلی شہریوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو اب اپنی حکومت کے ساتھ نہیں کھڑے۔
یہ اکثریت کا نظریہ نہیں ہے لیکن اسرائیلی حکومت کی کارروائیاں ہم سب کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں۔
ہمیں یہاں جتنی تباہی دکھائی دے رہی ہے وہ غزہ میں موجود ملبے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیں کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔