Express News:
2026-07-24@06:08:31 GMT

کیا ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں امریکا اور آس پاس کے ممالک کی معاونت جاری رہی تو پھر ایران ’’ حتمی بقائی اقدام ‘‘ کے طور پر ان ممالک کی حساس فوجی و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ خلیجِ فارس کو خلیجِ اومان سے ملانے والی آبنائے ہرمز کو بھی بند کرنے کی کارروائی کر سکتا ہے۔

کیا آبنائے ہرمز کو بند کرنا اتنا ہی آسان ہے ؟ یہ سوال یوں اہم ہے کیونکہ خلیجِ فارس کو خلیجِ اومان کے ذریعے بحرِ ہند سے ملانے والے اس تنگ راستے کو عالمی اقتصادی شہہ رگ کہا جاتا ہے۔اس کے ایک سرے پر ایران اور دوسرے سرے پر اومان ہے۔ اومان اور ایران کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، قطر ، کویت اور عراق کا تیل اور گیس بھی باقی دنیا تک اسی تنگ سے راستے سے پہنچتے ہیں۔

اگرچہ آبنائے ہرمز کی کم ازکم چوڑائی تینتیس کلومیٹر ہے مگر اس سے گذرنے والی شپنگ لائن محض تین کلومیٹر چوڑی ہے جس سے تیل اور گیس لے جانے والے سپر ٹینکر گذر سکتے ہیں۔یعنی یہ تین کلومیٹر چوڑائی سب سے گنجان تجارتی گذرگاہ ہے جس سے عالمی ضروریات کا بیس فیصد تیل ( ڈھائی کروڑ بیرل روزانہ ) اور ایک تہائی مایع گیس گذرتی ہے ۔

خلیجِ فارس کے حصہ دار تمام ممالک بشمول ایران تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک کے رکن ہیں۔جب کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا ملک قطر ایران کے ساتھ نہ صرف کچھ گیس فیلڈز شئیر کرتا ہے بلکہ خلیج میں ایران کا سب سے قریبی دوست بھی سمجھا جاتا ہے۔

اس راستے کی حفاظت کے لیے امریکا کا پانچواں بحری بیڑہ مستقل بحرین کی بندرگاہ مناما میں لنگرانداز رہتا ہے۔قطر میں امریکی کا سب سے بڑا علاقائی فضائی اڈہ العدید اور امریکی سینٹرل کمان کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔

اگر آبنائے ہرمز کے تجارتی بہاؤ میں کسی بھی جانب سے کوئی بھی بڑی رکاوٹ پڑتی ہے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب اردگرد کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے علاوہ ان تمام چھوٹے بڑے ممالک سے براہِ راست مخاصمت مول لینا ہے جن کا دار و مدار آبنائے ہرمز سے گذرنے والی انرجی پر ہے۔

آبنائے ہرمز سے گذرنے والا سڑسٹھ فیصد تیل بھارت ، چین ، جاپان اور جنوبی کوریا کو جاتا ہے۔دس فیصد تیل امریکا اور تئیس فیصد یورپ پہنچتا ہے۔

ایسا نہیں کہ آبنائے ہرمز سے گذرنے والی ٹریفک کبھی تعطل کا شکار نہیں ہوئی۔انیس سو اسی سے اٹھاسی تک عراق ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔اس امر کے باوجود کہ تب اومان کو چھوڑ کے تمام خلیجی ریاستیں صدام حسین کی دامے درمے پشت پناہی کر رہی تھیں آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی۔ انیس سو اٹھاسی میں ایرانی بحری حدود کے اندر امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ونسنٹ نے ایران کے سویلین طیارے کو مار گرایا جس میں دو سو نوے مسافر سوار تھے۔اس واقعہ کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہو گیا۔

عراق ایران جنگ کے بعد بھی انفرادی حملے اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔مثلاً دو ہزار دس میں القاعدہ نے خلیجِ فارس میں ایک جاپانی جہاز کو نشانہ بنایا۔دو ہزار بارہ میں مغربی ممالک بشمول امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی لگائی تب بھی ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

مئی دو ہزار انیس میں آبنائے ہرمز کے نزدیک دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا مگر ایران نے اس واردات میں ملوث ہونے کی تردید کی۔اس واقعہ کے اگلے ماہ خلیج میں دو اور آئل ٹینکرز کو بارودی سرنگوں سے نقصان پہنچا۔

گزشتہ برس اپریل میں جب دمشق میں ایرانی سفارتخانے کو اسرائیلی فضائیہ نے تباہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار میزائیلوں کا تبادلہ ہوا تو ایران نے خلیج میں ایک کنٹینر شپ کو اسرائیل کے لیے رسد لے جانے کے الزام میں عارضی ضبط کر لیا ۔

بحیرہ روم اور بحیرہ قلزم کو ملانے والی نہر سویز انیس سو سڑسٹھ اور انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگوں کے درمیانی عرصے اور بعد میں بھی کئی برس تباہ شدہ جہازوں سے اٹی رہی۔آج کل بحیرہ قلزم اور بحرِ ہند کو ملانے والی گذرگاہ باب المندب یمنی ہوثیوں کی ناکہ بندی کی زد میں ہیں۔مگر بین الاقوامی جہاز رانی کا بہاؤ تب بھی جاری ہے۔بس اتنی دقت ہے کہ اب یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے جہاز بحیرہ قلزم کے پر خطر راستے کو استعمال کرنے کے بجائے افریقہ کے گرد گھومنے والے طویل مگر مہنگے راستے سے آ جا رہے ہیں۔

اسی طرح آگر وسطی امریکا کو کاٹ کر بحیر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والے پاناما کینال بند ہو جائے تو جہاز جنوبی امریکا کا طویل چکر کاٹ کے نکل سکتے ہیں۔اگر جنوب مشرقی ایشیا کی آبنائے ملاکا کسی سبب بند ہو جائے تو بحری ٹریفک ملیشیا اور سماٹرا کے درمیان والا بحری راستہ استعمال کر سکتی ہے۔

مگر آبنائے ہرمز اس اعتبار سے نازک راہداری ہے کہ اس کا کوئی متبادل نہیں۔البتہ آبنائے کے دھانے پر واقع تین ممالک نے کسی ناگہانی کی صورت میں تیل کی ترسیل بحال رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بالا بالا جزوی انتظام ضرور کر لیا ہے۔

مثلاً سعودی عرب نے مشرق تا مغرب ایک متبادل پائپ لائن تعمیر کی ہے جس کی ترسیلی گنجائش ستر لاکھ بیرل روزانہ تک ہے۔یہ پائپ لائن تیل سے مالامال مشرقی پٹی سے خلیج اومان تک بچھائی گئی ہے۔سعودیوں نے خلیج فارس سے بحیرہ قلزم تک آر پار ایمرجنسی پائپ لائن بھی بچھائی ہے جس کی گنجائش پانچ لاکھ بیرل روزانہ تک ہے۔

جب کہ متحدہ عرب امارات نے بھی خلیجِ اومان سے متصل فجیرہ آئل ٹرمنل تک ایک پائپ لائن بچھائی ہے جس کی گنجائش پندرہ لاکھ بیرل روزانہ ہے۔جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے تنگ راستے کی ممکنہ ناکہ بندی کے اثرات سے خود کو بچانے کے لیے خلیجِ اومان کے دہانے پر قائم جسک کی بندرگاہ تک ایک پائپ لائن بچھائی ہے جس کی روزانہ گنجائش پینتیس لاکھ بیرل روزانہ ہے۔تاہم ایران اس پائپ لائن کو فی الحال اپنی پوری گنجائش کے اعتبار سے استعمال نہیں کر رہا۔

ایران ، امارات اور سعودی عرب تو آبنائے ہرمز کی کسی ناکہ بندی کے دوران تیل کی ترسیل جزوی طور برقرار رکھ پائیں گے۔عراق بھی ترکی اور شام کے راستے اپنے تیل کی پیداوار کسی حد تک باہر نکال سکتا ہے۔مگر بحرین ، قطر ، کویت اور عراق تو پوری طرح خلیجِ فارس کے پنجرے میں قید ہیں۔اسی لیے تو ان سب کا دار و مدار امریکا کی حفاظتی چھتری پر ہے۔جس کے عوض امریکا ان سے مختلف اشکال میں بھاری معاوضہ وصول کرتا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لاکھ بیرل روزانہ پائپ لائن ایران کے ایران نے ہے جس کی تیل کی کے لیے

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران