Express News:
2026-06-03@02:47:20 GMT

کیا ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں امریکا اور آس پاس کے ممالک کی معاونت جاری رہی تو پھر ایران ’’ حتمی بقائی اقدام ‘‘ کے طور پر ان ممالک کی حساس فوجی و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ خلیجِ فارس کو خلیجِ اومان سے ملانے والی آبنائے ہرمز کو بھی بند کرنے کی کارروائی کر سکتا ہے۔

کیا آبنائے ہرمز کو بند کرنا اتنا ہی آسان ہے ؟ یہ سوال یوں اہم ہے کیونکہ خلیجِ فارس کو خلیجِ اومان کے ذریعے بحرِ ہند سے ملانے والے اس تنگ راستے کو عالمی اقتصادی شہہ رگ کہا جاتا ہے۔اس کے ایک سرے پر ایران اور دوسرے سرے پر اومان ہے۔ اومان اور ایران کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، قطر ، کویت اور عراق کا تیل اور گیس بھی باقی دنیا تک اسی تنگ سے راستے سے پہنچتے ہیں۔

اگرچہ آبنائے ہرمز کی کم ازکم چوڑائی تینتیس کلومیٹر ہے مگر اس سے گذرنے والی شپنگ لائن محض تین کلومیٹر چوڑی ہے جس سے تیل اور گیس لے جانے والے سپر ٹینکر گذر سکتے ہیں۔یعنی یہ تین کلومیٹر چوڑائی سب سے گنجان تجارتی گذرگاہ ہے جس سے عالمی ضروریات کا بیس فیصد تیل ( ڈھائی کروڑ بیرل روزانہ ) اور ایک تہائی مایع گیس گذرتی ہے ۔

خلیجِ فارس کے حصہ دار تمام ممالک بشمول ایران تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک کے رکن ہیں۔جب کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا ملک قطر ایران کے ساتھ نہ صرف کچھ گیس فیلڈز شئیر کرتا ہے بلکہ خلیج میں ایران کا سب سے قریبی دوست بھی سمجھا جاتا ہے۔

اس راستے کی حفاظت کے لیے امریکا کا پانچواں بحری بیڑہ مستقل بحرین کی بندرگاہ مناما میں لنگرانداز رہتا ہے۔قطر میں امریکی کا سب سے بڑا علاقائی فضائی اڈہ العدید اور امریکی سینٹرل کمان کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔

اگر آبنائے ہرمز کے تجارتی بہاؤ میں کسی بھی جانب سے کوئی بھی بڑی رکاوٹ پڑتی ہے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب اردگرد کی تیل اور گیس سے مالامال ریاستوں کے علاوہ ان تمام چھوٹے بڑے ممالک سے براہِ راست مخاصمت مول لینا ہے جن کا دار و مدار آبنائے ہرمز سے گذرنے والی انرجی پر ہے۔

آبنائے ہرمز سے گذرنے والا سڑسٹھ فیصد تیل بھارت ، چین ، جاپان اور جنوبی کوریا کو جاتا ہے۔دس فیصد تیل امریکا اور تئیس فیصد یورپ پہنچتا ہے۔

ایسا نہیں کہ آبنائے ہرمز سے گذرنے والی ٹریفک کبھی تعطل کا شکار نہیں ہوئی۔انیس سو اسی سے اٹھاسی تک عراق ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا۔اس امر کے باوجود کہ تب اومان کو چھوڑ کے تمام خلیجی ریاستیں صدام حسین کی دامے درمے پشت پناہی کر رہی تھیں آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی۔ انیس سو اٹھاسی میں ایرانی بحری حدود کے اندر امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ونسنٹ نے ایران کے سویلین طیارے کو مار گرایا جس میں دو سو نوے مسافر سوار تھے۔اس واقعہ کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہو گیا۔

عراق ایران جنگ کے بعد بھی انفرادی حملے اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔مثلاً دو ہزار دس میں القاعدہ نے خلیجِ فارس میں ایک جاپانی جہاز کو نشانہ بنایا۔دو ہزار بارہ میں مغربی ممالک بشمول امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی لگائی تب بھی ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

مئی دو ہزار انیس میں آبنائے ہرمز کے نزدیک دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا مگر ایران نے اس واردات میں ملوث ہونے کی تردید کی۔اس واقعہ کے اگلے ماہ خلیج میں دو اور آئل ٹینکرز کو بارودی سرنگوں سے نقصان پہنچا۔

گزشتہ برس اپریل میں جب دمشق میں ایرانی سفارتخانے کو اسرائیلی فضائیہ نے تباہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار میزائیلوں کا تبادلہ ہوا تو ایران نے خلیج میں ایک کنٹینر شپ کو اسرائیل کے لیے رسد لے جانے کے الزام میں عارضی ضبط کر لیا ۔

بحیرہ روم اور بحیرہ قلزم کو ملانے والی نہر سویز انیس سو سڑسٹھ اور انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگوں کے درمیانی عرصے اور بعد میں بھی کئی برس تباہ شدہ جہازوں سے اٹی رہی۔آج کل بحیرہ قلزم اور بحرِ ہند کو ملانے والی گذرگاہ باب المندب یمنی ہوثیوں کی ناکہ بندی کی زد میں ہیں۔مگر بین الاقوامی جہاز رانی کا بہاؤ تب بھی جاری ہے۔بس اتنی دقت ہے کہ اب یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے جہاز بحیرہ قلزم کے پر خطر راستے کو استعمال کرنے کے بجائے افریقہ کے گرد گھومنے والے طویل مگر مہنگے راستے سے آ جا رہے ہیں۔

اسی طرح آگر وسطی امریکا کو کاٹ کر بحیر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملانے والے پاناما کینال بند ہو جائے تو جہاز جنوبی امریکا کا طویل چکر کاٹ کے نکل سکتے ہیں۔اگر جنوب مشرقی ایشیا کی آبنائے ملاکا کسی سبب بند ہو جائے تو بحری ٹریفک ملیشیا اور سماٹرا کے درمیان والا بحری راستہ استعمال کر سکتی ہے۔

مگر آبنائے ہرمز اس اعتبار سے نازک راہداری ہے کہ اس کا کوئی متبادل نہیں۔البتہ آبنائے کے دھانے پر واقع تین ممالک نے کسی ناگہانی کی صورت میں تیل کی ترسیل بحال رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بالا بالا جزوی انتظام ضرور کر لیا ہے۔

مثلاً سعودی عرب نے مشرق تا مغرب ایک متبادل پائپ لائن تعمیر کی ہے جس کی ترسیلی گنجائش ستر لاکھ بیرل روزانہ تک ہے۔یہ پائپ لائن تیل سے مالامال مشرقی پٹی سے خلیج اومان تک بچھائی گئی ہے۔سعودیوں نے خلیج فارس سے بحیرہ قلزم تک آر پار ایمرجنسی پائپ لائن بھی بچھائی ہے جس کی گنجائش پانچ لاکھ بیرل روزانہ تک ہے۔

جب کہ متحدہ عرب امارات نے بھی خلیجِ اومان سے متصل فجیرہ آئل ٹرمنل تک ایک پائپ لائن بچھائی ہے جس کی گنجائش پندرہ لاکھ بیرل روزانہ ہے۔جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے تنگ راستے کی ممکنہ ناکہ بندی کے اثرات سے خود کو بچانے کے لیے خلیجِ اومان کے دہانے پر قائم جسک کی بندرگاہ تک ایک پائپ لائن بچھائی ہے جس کی روزانہ گنجائش پینتیس لاکھ بیرل روزانہ ہے۔تاہم ایران اس پائپ لائن کو فی الحال اپنی پوری گنجائش کے اعتبار سے استعمال نہیں کر رہا۔

ایران ، امارات اور سعودی عرب تو آبنائے ہرمز کی کسی ناکہ بندی کے دوران تیل کی ترسیل جزوی طور برقرار رکھ پائیں گے۔عراق بھی ترکی اور شام کے راستے اپنے تیل کی پیداوار کسی حد تک باہر نکال سکتا ہے۔مگر بحرین ، قطر ، کویت اور عراق تو پوری طرح خلیجِ فارس کے پنجرے میں قید ہیں۔اسی لیے تو ان سب کا دار و مدار امریکا کی حفاظتی چھتری پر ہے۔جس کے عوض امریکا ان سے مختلف اشکال میں بھاری معاوضہ وصول کرتا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لاکھ بیرل روزانہ پائپ لائن ایران کے ایران نے ہے جس کی تیل کی کے لیے

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار