Jasarat News:
2026-07-24@04:19:56 GMT

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعدمرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ پالیسی کمیٹی کے مطابق مئی 2025ء میں افراط زر توقعات کے مطابق 3.

5 فیصد رہی جب کہ مہنگائی میں معمولی کمی ہوئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26 20ء میں مہنگائی بڑھ کر ہدف کے مطابق مستحکم ہو جائے گی،اقتصادی نمو بتدریج بڑھ رہی ہے، تجارتی خسارے میں مستقل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مالی رقوم کی آمد کمزور ہے، بجٹ کے مجوزہ اقدامات تجارتی خسارے میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔مرکزی بینک کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی حقیقی جی ڈی پی نمو 2.7 فیصد بتائی گئی ہے،آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد ہے،تجارتی خسارے میں اضافے کے باوجود اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ متوازن رہا،اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر بڑھ کر 11.7 ارب ڈالر ہوگئے،شرح سود مہنگائی کو5 سے 7فیصد پر مستحکم رکھنے کے لیے معقول ہے۔ دوسری ششماہی کے دوران معیشت کی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا،جی ڈی پی نمو بڑھ کر 3.9 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ اہم فصلوں کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زراعت کے شعبے نے رواں مالی سال کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، آئندہ مالی سال صنعت اور خدمات کے شعبے معاشی ترقی کو بڑھاتے رہیں گے،آئندہ مالی سال حقیقی جی ڈی پی کی نمو مزید بڑھے گی،اپریل2025ء میں جاری کھاتہ تقریباً متوازن رہا،10ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس رہا، حالیہ بجٹ کے اقدامات کا مہنگائی پر محدود اثر پڑے گا ۔دوسری جانب صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ اسٹیسٹس کو برقرار رکھنے پر پاکستان کی کاروباری، صنعتی اورتاجر برادری مانیٹری پالیسی سے مایوس ہے کیونکہ یہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مقابلے میں بھاری پریمیم پر مبنی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اپنے پیر کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی، عاطف اکرام شیخ، نے روشنی ڈالی کہ افراط زر کے حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 میں افراط زر 3.50 فیصد رہاہے لیکن پالیسی کی شرح آج بھی 11.0 فیصد پر برقرار ہے جو کہ افراط زر کے مقابلے میں 750 بیسس پوائنٹس کے پریمیم کی عکاسی کرتی ہے اور یہ معاشی کامن سینس کے خلاف ہے۔ادھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضرورت سے زیادہ محتاط اور منفی اثرات کا حامل فیصلہ قرار دیا ہے جو مہنگائی میں کمی اور صنعتی مسابقت کی گرتی ہوئی حالت کے تناظر میں نامناسب ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کے مطابق افراط زر مالی سال فیصد پر

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ