Jasarat News:
2026-06-03@02:29:22 GMT

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعدمرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔ پالیسی کمیٹی کے مطابق مئی 2025ء میں افراط زر توقعات کے مطابق 3.

5 فیصد رہی جب کہ مہنگائی میں معمولی کمی ہوئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26 20ء میں مہنگائی بڑھ کر ہدف کے مطابق مستحکم ہو جائے گی،اقتصادی نمو بتدریج بڑھ رہی ہے، تجارتی خسارے میں مستقل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مالی رقوم کی آمد کمزور ہے، بجٹ کے مجوزہ اقدامات تجارتی خسارے میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔مرکزی بینک کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی حقیقی جی ڈی پی نمو 2.7 فیصد بتائی گئی ہے،آئندہ مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد ہے،تجارتی خسارے میں اضافے کے باوجود اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ متوازن رہا،اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر بڑھ کر 11.7 ارب ڈالر ہوگئے،شرح سود مہنگائی کو5 سے 7فیصد پر مستحکم رکھنے کے لیے معقول ہے۔ دوسری ششماہی کے دوران معیشت کی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا،جی ڈی پی نمو بڑھ کر 3.9 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ اہم فصلوں کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زراعت کے شعبے نے رواں مالی سال کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، آئندہ مالی سال صنعت اور خدمات کے شعبے معاشی ترقی کو بڑھاتے رہیں گے،آئندہ مالی سال حقیقی جی ڈی پی کی نمو مزید بڑھے گی،اپریل2025ء میں جاری کھاتہ تقریباً متوازن رہا،10ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس رہا، حالیہ بجٹ کے اقدامات کا مہنگائی پر محدود اثر پڑے گا ۔دوسری جانب صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ اسٹیسٹس کو برقرار رکھنے پر پاکستان کی کاروباری، صنعتی اورتاجر برادری مانیٹری پالیسی سے مایوس ہے کیونکہ یہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مقابلے میں بھاری پریمیم پر مبنی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اپنے پیر کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو برقرار رکھا ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی، عاطف اکرام شیخ، نے روشنی ڈالی کہ افراط زر کے حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 میں افراط زر 3.50 فیصد رہاہے لیکن پالیسی کی شرح آج بھی 11.0 فیصد پر برقرار ہے جو کہ افراط زر کے مقابلے میں 750 بیسس پوائنٹس کے پریمیم کی عکاسی کرتی ہے اور یہ معاشی کامن سینس کے خلاف ہے۔ادھر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضرورت سے زیادہ محتاط اور منفی اثرات کا حامل فیصلہ قرار دیا ہے جو مہنگائی میں کمی اور صنعتی مسابقت کی گرتی ہوئی حالت کے تناظر میں نامناسب ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کے مطابق افراط زر مالی سال فیصد پر

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار