چوہدری عدنان قتل کیس: ن لیگی رہنما چوہدری تنویر ہائیکورٹ سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
چوہدری عدنان قتل کیس: ن لیگی رہنما چوہدری تنویر ہائیکورٹ سے گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 17 June, 2025 سب نیوز
لاہور:سابق پارلیمانی سیکرٹری پنجاب چوہدری عدنان کے قتل کیس میں اہم پیش رفت، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری تنویر کو ضمانت مسترد ہونے پر ہائیکورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت عالیہ کے جسٹس صداقت علی خان نے چوہدری تنویر کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم جاری کیا، جس کے بعد سول لائنز پولیس نے انہیں عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد لیگی رہنما کو طبی معائنے کے لیے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چوہدری عدنان کو 12 فروری کی شام پولیس لائنز گیٹ کے قریب فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، قتل کیس میں چوہدری تنویر کو نامزد ملزم قرار دیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر چین وسطی ایشیا افرادی و ثقافتی تبادلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد محکمہ موسمیات نے کئی شہروں میں بارش کی پیشگوئی کردی اسرائیل کا پاسداران انقلاب کے ایک اور اعلیٰ کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ ایران۔اسرائیل جنگ پر جی 7 ممالک میں پھوٹ، ٹرمپ نے اجلاس ادھورا چھوڑ دیا نفرت انگیز بیانیے کی روک تھام: پاکستان کا اقوام متحدہ سے عملی اقدامات کا مطالبہ اسرائیلی حملوں میں ساتھ دینے والے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں: ایران نے خبردار کر دیا اسرائیل ایران کشیدگی: ٹرمپ کا جی7 اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چوہدری عدنان چوہدری تنویر سے گرفتار قتل کیس
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔