ایران میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کے انخلا کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے ایران میں تعینات سفارت کاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کے انخلا کا فیصلہ کرلیا۔
میڈیاذرائع کے مطابق سینیئر عہدیدار دفتر خارجہ کے مطابق سفارتی عملے کے خاندانوں کو ایران سے نکالا جا رہا ہے اور کچھ غیر ضروری عملہ بھی ایران سے واپس بلایا جا رہا ہے۔
سینیئرعہدیدار دفتر خارجہ نے بتایاکہ تہران میں پاکستانی سفارتخانہ اور قونصل خانے معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے اور ایران میں موجود پاکستانی مشن بدستور فعال رہیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اعلیٰ عسکری قیادت اور متعدد ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 227 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔