کراچی: ملزم شاہ اسد پر قتل خطا کا جرم ثابت، 8 سال قید،81 لاکھ سے زائد دیت کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے کلفٹن میں ملزم کی گاڑی کی ٹکر سے اہلکار کی ہلاکت کیس میں فیصلہ سنادیا گیا۔
عدالت نے قتل خطا کا جرم ثابت ہونے پر ملزم شاہ اسد کو 8 برس قید اور 81 لاکھ 3 ہزار 955 روپے بطور دیت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کہا کہ کار سرکار میں مداخلت اور املاک کو نقصان پہنچانے پر ملزم کو 4 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا جبکہ ملزم کو منشیات برآمدگی کیس میں بری کردیا گیا۔
پراسکیویشن کے مطابق پولیس نے گرفتار ملزم شاہنواز کی نشاندہی پر توحید کمرشل میں کارروائی کی تھی، ملزم نے فرار ہونے کے لیے سپاہی میر محمد پر گاڑی چڑھا دی تھی، زخمی پولیس اہلکار میر محمد اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا تھا۔
ملزم کی گاڑی سے 200 گرام آئس برآمد ہوئی تھی، واقعہ 18 جنوری 2021ء کو کلفٹن تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔