ایران اسرائیل جنگ: پاکستان سے روس جانے والی مال بردار ٹرین کی روانگی منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث پاکستان سے روس جانے والی مال بردار ٹرین کی روانگی منسوخ کر دی گئی، جنگ ختم ہونے اور سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی پاکستان ریلویز کی پہلی مال بردار ریل گاڑی روس روانہ ہو سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریلوے ذرائع نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی مال بردار ٹرین نے 22 جون کو لاہور سے روانہ ہونا تھا جس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے بارڈرز بند ہیں، مال بردار ٹرین روانہ نہیں ہو سکتی، کب روانہ ہوگی اس کی تاریخ کا ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان ریلویز کی مال بردار پہلی ریل گاڑی نے سولہ مال بردار بوگیوں کے ساتھ روانہ ہونا تھا، مال بردار ریل گاڑی نے روس کے شہر اسٹرا خان تک جانا تھا۔
مال بردار ریل گاڑی سولہ کے قریب مختلف اشیاء پر مشتمل کنٹینیرز روس پہنچنے تھے اور پھر اسی مال بردار ریل گاڑی کے زریعے مرحلہ وار کنٹینیرز کی تعداد 30 پھر پچاس تک بڑھانی تھی۔
پاکستان ریلویز کی طرف سے مال بردار ریل گاڑی چلانے کا مقصد جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔
مال بردار ریل گاڑی سے ہی بہت ساری اشیاء روس اور ترکمانستان قازقستان سے بھی پاکستان انی تھی۔
ایران اسرائیل جنگ ختم ہونے اور سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے پر ہے مال بردار ریل گاڑی اپنے سفر پر روانہ ہو سکے گی۔
مال بردار گاڑی نے ایران ترکمانستان قازقستان سے ہوتے ہوئے روس پہنچنا تھا، پاکستان ریلویز کی امدنی کا بڑا حصہ مال بردار ریل گاڑیوں سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔
ریلوے کے مقابلے میں دیگر گڈز لے جانے والی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں سستی ہے، پاکستان ریلویز نے اپنے مال بردار ریل گاڑیوں کے فلیٹ میں مزید جدید نئی سو کے قریب فریٹ وین شامل کی ہیں۔
جب اس سلسلے میں ریلویز حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا حالات جیسے ہی بہتر ہوتے ہیں روس جانے والی پہلی مال بردار ریل گاڑی کو روانہ کردیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی ہے اگر ایران اسرائیل جنگ نہ ہوتی تو مال بردار ریل گاڑی نے اپنے وقت پر ہی روانہ ہونا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مال بردار ریل گاڑی پاکستان ریلویز کی ایران اسرائیل جنگ مال بردار ٹرین جانے والی گاڑی نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔