Jasarat News:
2026-07-24@02:00:31 GMT

پی ایس ایل تقریبات اور ہندو ثقافت

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں منعقد ہونے والا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) کافی مقبول ہے۔مئی 2025 کا جاری پی ایس ایل 10 تعطل کا شکار ہوا جب ہندوستان کی جنونی جارحیت کرکٹ اسٹیڈیم تک جا پہنچی تھی۔ ہندوستانی جارحیت کے جواب کو افواج پاکستان نے آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کا نام دیا۔ (جو قرآنی آیت سے ماخوذ اور وقت کے لحاظ سے موزوں ترین تھا) ہندوستان کو منہ توڑ جواب اور جیت کی خوشی میں پی ایس ایل کے ملتوی میچز ایک جشن کی تقریب میں ڈھل گئے جب (پی سی بی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 10 کو فوج کے نام کر دیا۔ کرکٹ بورڈ کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے تین دن آرمی، نیوی، اور ائر فورس کے نام کیے گئے۔ راولپنڈی اسٹیڈیم میں ہونے والا میچ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر دیکھنے کے لیے پہنچے اور ملی نغموں کے دوران نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے مکہ ہوا میں لہرا کر گلوکاروں کو جواب بھی دیا۔ فائنل تقریب کو پاک بحریہ کے نام کیا گیا، خبر کے مطابق معروف گلوکار ابرارالحق نے پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ مزید رنگ بھرنے کے لیے کئی ڈانسرز ابرار الحق کا ساتھ دینے کے لیے موجود تھیں، مجمع بھی دلی کشادگی کے ساتھ رقاصاؤں کے جسم کی حرکات و سکنات کے ساتھ ہم آہنگ تھا، مرد خواتین اور بچے سب ہی لطف اندوز ہو رہے تھے، لہرا رہے تھے، ناچ رہے تھے، کچھ خواتین اپنے لباس حرکات اور ظاہر سے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کاوش کرتے ہوئے کیمرہ مین کی نگاہوں کا محور بننے کے لیے کوشاں نظر آئیں۔ مشہور شاعر خمار بارہ بنکوی نے مشاعرہ پر اپنے ایک تبصرہ میں کہا تھا ’’آج کی شاعرات نے مشاعرہ کو مجرا بنا دیا ہے۔ پہلے میں مشاعرہ میں جاتا تھا تو عمر بڑھتی تھی مگر اب مشاعروں میں جانے سے عمر گھٹنے لگی ہے‘‘۔ اسی پیرائے میں بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ آج کے بعض گلوکاروں نے بھنگڑے کو مجرا بنا دیا ہے۔
ظفر آدمی اسے نہ جانیے گا، ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو متعدد بار اگلے محاذوں، مورچوں اور مختلف مواقع اور تقاریب میں قرآن مجید کی آیات کی تلاوت اور تفہیم کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس پس منظر میں تو فائنل تقریب کا پیش منظر پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ کی دیدہ دلیری ہی کہا جا سکتا ہے۔ کیا ’’بنیان مرصوص‘‘ سے جڑی یہ خرافات اور ناچ گانا سراسر احکام قرآنی کی خلاف ورزی بے حیائی اور فواحش کے زمرے میں نہیں آتی ہیں؟۔ پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ سے سوال بنتا ہے کہ کیا بھنگڑے کے نام پر رقاصاؤں کا ناچ گانا پاکستانی ثقافت ہے یا اسلامی ثقافت ہے یا ہندوستانی ثقافت؟ اس سوال کا جواب ان میں سے کسی کے پاس ہے یا نہیں اس سے قطع نظر علامہ اقبال اپنی ولولہ انگیز شاعری کے ذریعہ ہمیں آشکارا کر گئے ہیں۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
معرکہ حق میں فتح جو ربّ کریم کی ایک بہت بڑی رحمت اور عطا تھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے کیا اہل حق کو یہ زیب دیتا ہے کہ فتح کے جشن میں ربّ کی ناراضی مول لیں۔ ہمیں اپنی ثقافت دکھانے کے صرف وہی انداز کیوں یاد رہتے ہیں جن میں ناچ گانا اور موسیقی ہی کے ذریعہ شکر ادا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اللہ اکبر کے نعرے ربّ کی کبریائی کا اعلان اور ساتھ ہی شیطان کو راضی کرنے کے لیے رقص و موسیقی اور تھرکتے ہوئے نسوانی حسن کا اظہار کرتے فنکار۔ نہ جانے ہماری دینی حمیت کو کیا ہو گیا ہے۔
نبی کریم کی سیرتِ مبارکہ میں ہمارے ہر گوشہ زندگی کے لیے رہنمائی ہے، اس میں ثقافت، تہذیب اور تمدن سب ہی شامل ہے۔ اسلام کی تہذیب و ثقافت دو قومی نظریہ کی طرح ہندو ثقافت سے بالکل جدا اور ممتاز ہے۔ اس کی بنیاد وہ اْصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی کریم نے اپنے اْسوہ حسنہ کے ذریعے اْمتِ مسلمہ کو سکھائے۔
دیکھا جائے تو بے حیائی اور فواحش سے ہماری بے حسی کی ذہن سازی اور دیگر عوامل کے ساتھ اس وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب ہم ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ مختلف کمرشل اشتہارات دیکھنے میں گم ہوتے ہیں جن میں دوپٹے کا کیا سوال ہے، خواتین کو تو نیم برہنہ حلیے اور انتہائی قابل اعتراض حالت میں دکھایا جاتا ہے۔ صابن، شیمپو، چاکلیٹ کا اشتہار ہو یا پنکھے، ریفریجریٹر، اے سی یا کولڈ ڈرنک اور جوشاندے کا اشتہار حتیٰ کہ خواتین کی ذاتی استعمال کی چیزوں کو بھی اب نہیں بخشا گیا ہے۔ پراپرٹی، انٹر نیٹ پرووائڈرز غرض کس کس اشتہار کا نام لیا جائے۔ خواتین کے برانڈڈ سوٹ کا کوئی بھی پیکٹ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کسی نہ کسی خاتون کی تصویر اداؤں کے ساتھ اس سوٹ کی ماڈلنگ کی موجود ہوگی جس میں دوپٹا جس مقصد کے لیے پہنا جاتا ہے اس مقصد کو وہ آوازیں دے دے کر شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اور اگر اس پیکٹ کے اندر موجود کپڑے کو دیکھیں تو بعض کپڑے اتنے باریک ہوتے ہیں کہ دینی حمیت اس کو گوارا نہیں کرتی کہ اس طرح مسلمان بیبیاں زیب تن کریں۔ سوچیے خواتین کو قابل اعتراض یا نیم عریاں لباس میں اور کلوز اپ کے ساتھ کیوں کمرشل اشتہارات میں دکھایا جارہا ہے، اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اشتہار میں آنے والی مصنوعات کے مالکان کو یقین ہے کہ جب تک عورت کو اور اس کی نمائش کو اپنی مصنوعات کے ساتھ نتھی کرکے اشتہار نہیں دکھائیں گے لوگ ان کی مصنوعات کی جانب متوجہ نہیں ہوں گے۔
پاکستان کرکٹ میں ناچ گانے کی ان خرافات کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، ایشیا کپ ہو، اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریبات کا بہانا ہو یا پی ایس ایل، فحاشی اور عریانی کے فروغ کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا جیسا کہ اب ’’بنیان مرصوص‘‘ سے جڑی تقریب میں کیا گیا۔ بھلا کھیل کا ناچ گانے اور بھنگڑے سے کیا رشتہ اور تعلق، اگر کچھ بھی تعلق ہے تو اسے ہم ہندو ثقافت سے ہی موسوم کریں گے۔ شکر کے جذبات کا اظہار کرنے میں بھی اہل حق کا جداگانہ انداز ہونا چاہیے، اتنے بڑے دشمن پر ربّ کریم نے جس طرح فتح کے ذریعہ عزت بخشی اس پر تو مزید ربّ کی طرف جھکنے اور شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ چند تضادات ہیں جن کی نشاندہی کی اور بگڑی ذہنیت کے علاج کی کافی و شافی ضرورت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ معاشرے میں قرآنی تعلیمات کا فقدان ہے لیکن چند چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ہم ان کو دینی تعلیمات کے حوالے سے اہمیت نہ بھی دیں تب بھی یہ ہماری روایات کے بھی برخلاف ہیں جس میں اہم ترین چیز حیا کا فقدان ہے، رسول کریمؐ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو‘‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب کی یلغار نے معاشرہ کو اتنا بے حس بنادیا ہے کہ اب حیا اور بے حیائی میں فرق مشکل ہو گیا ہے وگرنہ اگر ہمیں شعور ہوتا تو اس مقام پر ہمارا معاشرہ نہ کھڑا ہوتا جس مقام پر کھڑے ہوئے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے ساتھ کے نام کے لیے اپنے ا

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف