پی ایس ایل تقریبات اور ہندو ثقافت
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں منعقد ہونے والا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) کافی مقبول ہے۔مئی 2025 کا جاری پی ایس ایل 10 تعطل کا شکار ہوا جب ہندوستان کی جنونی جارحیت کرکٹ اسٹیڈیم تک جا پہنچی تھی۔ ہندوستانی جارحیت کے جواب کو افواج پاکستان نے آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کا نام دیا۔ (جو قرآنی آیت سے ماخوذ اور وقت کے لحاظ سے موزوں ترین تھا) ہندوستان کو منہ توڑ جواب اور جیت کی خوشی میں پی ایس ایل کے ملتوی میچز ایک جشن کی تقریب میں ڈھل گئے جب (پی سی بی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 10 کو فوج کے نام کر دیا۔ کرکٹ بورڈ کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے تین دن آرمی، نیوی، اور ائر فورس کے نام کیے گئے۔ راولپنڈی اسٹیڈیم میں ہونے والا میچ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر دیکھنے کے لیے پہنچے اور ملی نغموں کے دوران نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے مکہ ہوا میں لہرا کر گلوکاروں کو جواب بھی دیا۔ فائنل تقریب کو پاک بحریہ کے نام کیا گیا، خبر کے مطابق معروف گلوکار ابرارالحق نے پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ مزید رنگ بھرنے کے لیے کئی ڈانسرز ابرار الحق کا ساتھ دینے کے لیے موجود تھیں، مجمع بھی دلی کشادگی کے ساتھ رقاصاؤں کے جسم کی حرکات و سکنات کے ساتھ ہم آہنگ تھا، مرد خواتین اور بچے سب ہی لطف اندوز ہو رہے تھے، لہرا رہے تھے، ناچ رہے تھے، کچھ خواتین اپنے لباس حرکات اور ظاہر سے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کاوش کرتے ہوئے کیمرہ مین کی نگاہوں کا محور بننے کے لیے کوشاں نظر آئیں۔ مشہور شاعر خمار بارہ بنکوی نے مشاعرہ پر اپنے ایک تبصرہ میں کہا تھا ’’آج کی شاعرات نے مشاعرہ کو مجرا بنا دیا ہے۔ پہلے میں مشاعرہ میں جاتا تھا تو عمر بڑھتی تھی مگر اب مشاعروں میں جانے سے عمر گھٹنے لگی ہے‘‘۔ اسی پیرائے میں بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ آج کے بعض گلوکاروں نے بھنگڑے کو مجرا بنا دیا ہے۔
ظفر آدمی اسے نہ جانیے گا، ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو متعدد بار اگلے محاذوں، مورچوں اور مختلف مواقع اور تقاریب میں قرآن مجید کی آیات کی تلاوت اور تفہیم کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس پس منظر میں تو فائنل تقریب کا پیش منظر پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ کی دیدہ دلیری ہی کہا جا سکتا ہے۔ کیا ’’بنیان مرصوص‘‘ سے جڑی یہ خرافات اور ناچ گانا سراسر احکام قرآنی کی خلاف ورزی بے حیائی اور فواحش کے زمرے میں نہیں آتی ہیں؟۔ پی سی بی اور پی ایس ایل کی انتظامیہ سے سوال بنتا ہے کہ کیا بھنگڑے کے نام پر رقاصاؤں کا ناچ گانا پاکستانی ثقافت ہے یا اسلامی ثقافت ہے یا ہندوستانی ثقافت؟ اس سوال کا جواب ان میں سے کسی کے پاس ہے یا نہیں اس سے قطع نظر علامہ اقبال اپنی ولولہ انگیز شاعری کے ذریعہ ہمیں آشکارا کر گئے ہیں۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
معرکہ حق میں فتح جو ربّ کریم کی ایک بہت بڑی رحمت اور عطا تھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے کیا اہل حق کو یہ زیب دیتا ہے کہ فتح کے جشن میں ربّ کی ناراضی مول لیں۔ ہمیں اپنی ثقافت دکھانے کے صرف وہی انداز کیوں یاد رہتے ہیں جن میں ناچ گانا اور موسیقی ہی کے ذریعہ شکر ادا کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اللہ اکبر کے نعرے ربّ کی کبریائی کا اعلان اور ساتھ ہی شیطان کو راضی کرنے کے لیے رقص و موسیقی اور تھرکتے ہوئے نسوانی حسن کا اظہار کرتے فنکار۔ نہ جانے ہماری دینی حمیت کو کیا ہو گیا ہے۔
نبی کریم کی سیرتِ مبارکہ میں ہمارے ہر گوشہ زندگی کے لیے رہنمائی ہے، اس میں ثقافت، تہذیب اور تمدن سب ہی شامل ہے۔ اسلام کی تہذیب و ثقافت دو قومی نظریہ کی طرح ہندو ثقافت سے بالکل جدا اور ممتاز ہے۔ اس کی بنیاد وہ اْصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی کریم نے اپنے اْسوہ حسنہ کے ذریعے اْمتِ مسلمہ کو سکھائے۔
دیکھا جائے تو بے حیائی اور فواحش سے ہماری بے حسی کی ذہن سازی اور دیگر عوامل کے ساتھ اس وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب ہم ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ مختلف کمرشل اشتہارات دیکھنے میں گم ہوتے ہیں جن میں دوپٹے کا کیا سوال ہے، خواتین کو تو نیم برہنہ حلیے اور انتہائی قابل اعتراض حالت میں دکھایا جاتا ہے۔ صابن، شیمپو، چاکلیٹ کا اشتہار ہو یا پنکھے، ریفریجریٹر، اے سی یا کولڈ ڈرنک اور جوشاندے کا اشتہار حتیٰ کہ خواتین کی ذاتی استعمال کی چیزوں کو بھی اب نہیں بخشا گیا ہے۔ پراپرٹی، انٹر نیٹ پرووائڈرز غرض کس کس اشتہار کا نام لیا جائے۔ خواتین کے برانڈڈ سوٹ کا کوئی بھی پیکٹ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کسی نہ کسی خاتون کی تصویر اداؤں کے ساتھ اس سوٹ کی ماڈلنگ کی موجود ہوگی جس میں دوپٹا جس مقصد کے لیے پہنا جاتا ہے اس مقصد کو وہ آوازیں دے دے کر شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اور اگر اس پیکٹ کے اندر موجود کپڑے کو دیکھیں تو بعض کپڑے اتنے باریک ہوتے ہیں کہ دینی حمیت اس کو گوارا نہیں کرتی کہ اس طرح مسلمان بیبیاں زیب تن کریں۔ سوچیے خواتین کو قابل اعتراض یا نیم عریاں لباس میں اور کلوز اپ کے ساتھ کیوں کمرشل اشتہارات میں دکھایا جارہا ہے، اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اشتہار میں آنے والی مصنوعات کے مالکان کو یقین ہے کہ جب تک عورت کو اور اس کی نمائش کو اپنی مصنوعات کے ساتھ نتھی کرکے اشتہار نہیں دکھائیں گے لوگ ان کی مصنوعات کی جانب متوجہ نہیں ہوں گے۔
پاکستان کرکٹ میں ناچ گانے کی ان خرافات کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، ایشیا کپ ہو، اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریبات کا بہانا ہو یا پی ایس ایل، فحاشی اور عریانی کے فروغ کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا جیسا کہ اب ’’بنیان مرصوص‘‘ سے جڑی تقریب میں کیا گیا۔ بھلا کھیل کا ناچ گانے اور بھنگڑے سے کیا رشتہ اور تعلق، اگر کچھ بھی تعلق ہے تو اسے ہم ہندو ثقافت سے ہی موسوم کریں گے۔ شکر کے جذبات کا اظہار کرنے میں بھی اہل حق کا جداگانہ انداز ہونا چاہیے، اتنے بڑے دشمن پر ربّ کریم نے جس طرح فتح کے ذریعہ عزت بخشی اس پر تو مزید ربّ کی طرف جھکنے اور شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ چند تضادات ہیں جن کی نشاندہی کی اور بگڑی ذہنیت کے علاج کی کافی و شافی ضرورت ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ معاشرے میں قرآنی تعلیمات کا فقدان ہے لیکن چند چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ہم ان کو دینی تعلیمات کے حوالے سے اہمیت نہ بھی دیں تب بھی یہ ہماری روایات کے بھی برخلاف ہیں جس میں اہم ترین چیز حیا کا فقدان ہے، رسول کریمؐ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو‘‘ ہمارا المیہ یہ ہے کہ مغربی افکار اور مغربی تہذیب کی یلغار نے معاشرہ کو اتنا بے حس بنادیا ہے کہ اب حیا اور بے حیائی میں فرق مشکل ہو گیا ہے وگرنہ اگر ہمیں شعور ہوتا تو اس مقام پر ہمارا معاشرہ نہ کھڑا ہوتا جس مقام پر کھڑے ہوئے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے ساتھ کے نام کے لیے اپنے ا
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔