غذا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں: سمجھداری سے کھائیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ہمارے ہاں کھانے کے بارے میں عمومی رویہ یہ ہے کہ جو چیز دستیاب ہو، بھوک لگے تو کھا لی جائے، وقت کا خیال نہ اجزاء کی افادیت پر غور، لیکن آج کے دور میں جہاں صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا ہر فرد کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، وہاں صرف کھانے سے پیٹ بھرنا کافی نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کھانے میں موجود غذائی اجزاء ہمارے جسم میں مؤثر طریقے سے جذب ہوں۔تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کچھ غذائیں اگر اکیلے کھائی جائیں تو وہ اپنی پوری غذائی افادیت فراہم نہیں کرتیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم میں کچھ مخصوص وٹامنز اور منرلز کو بہتر طریقے سے جذب ہونے کے لیے دیگر اجزاء کی مدد درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ وٹامنز صرف چکنائی میں حل ہوتے ہیں جبکہ کچھ منرلز کا جذب ہونا دوسرے غذائی عناصر کی موجودگی سے مشروط ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم خوراک کو صرف اس کے ذائقے، رنگ یا خوشبو کی بنیاد پر منتخب کریں اور یہ نہ دیکھیں کہ وہ ہمارے جسم کے لیے کتنا فائدہ مند یا غیر مؤثر ثابت ہوگی، تو ہم اپنے ہی صحت کے سفر کو سست یا نقصان دہ بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ماہرینِ غذائیت صرف ’’کیا کھایا جائے‘‘ پر زور نہیں دیتے بلکہ ’’کس کے ساتھ کھایا جائے‘‘ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ مضمون انہی اصولوں کی روشنی میں اْن سات عام اور روزمرہ کی غذاؤں پر روشنی ڈالتا ہے جنہیں اگر ہم مخصوص اشیاء کے ساتھ کھائیں تو نہ صرف اْن کا ذائقہ بڑھتا ہے بلکہ اْن کی غذائی افادیت بھی کئی گنا ہو جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب غذائیں ہماری روزمرہ زندگی میں پہلے ہی موجود ہیں، صرف ہمیں اْنہیں زیادہ سمجھ داری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ تو آئیے، جانتے ہیں کہ وہ سات غذائیں کون سی ہیں، اور کس کے ساتھ کھانے سے وہ ہمارے جسم کو مکمل فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
کیلا: دودھ یا دہی کے ساتھ کھائیں
کیلا ایک ایسا پھل ہے جو پاکستان میں سال بھر دستیاب ہوتا ہے، قیمت میں مناسب اور ہر عمر کے افراد کے لیے پسندیدہ بھی۔ بچے ہوں یا بزرگ، کیلا توانائی کا فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کیلا اکیلے کھانے سے آپ کو صرف آدھے فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ اس میں انْیولن (Inulin) نامی ایک فائبر پایا جاتا ہے جو معدے میں موجود مفید بیکٹیریا (Probiotics) کی افزائش میں مدد دیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی اگر آپ اسے دودھ، دہی یا پنیر جیسے کیلشیم سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ کھائیں تو یہ کیلشیم کے جذب ہونے کو بھی بہتر بناتا ہے، جس سے ہڈیوں کی صحت مضبوط ہوتی ہے۔ ایک بہترین ناشتہ میں کیلے کے قتلے دہی میں شامل کریں یا دودھ میں بلینڈ کر لیں۔ یہ ناشتہ نہ صرف توانائی بخش ہے بلکہ معدے، ہڈیوں اور پٹھوں کے لیے بھی مفید ہے۔
اسٹرابیری: مونگ پھلی کے مکھن کے ساتھ
اسٹرابیری ایک موسمی پھل ہے مگر شوقین افراد اسے سردیوں میں فریزر میں محفوظ کر کے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس پھل میں وٹامن سی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے ساتھ جلد کی صحت، خلیاتی نشوونما اور آئرن کے جذب میں بھی مدد دیتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وٹامن سی، وٹامن ای کے ساتھ مل کر کام کرے تو یہ آنکھوں کے لیے زبردست فائدہ مند ہوتا ہے۔
وٹامن ای مونگ پھلی، بادام اور سورج مکھی کے بیجوں میں پایا جاتا ہے اور آنکھوں کی بیماریوں، خاص طور پر عمر بڑھنے سے لاحق ’’میکولر ڈی جنریشن‘‘ سے بچاتا ہے۔ لہٰذا اسٹرابیری کو مونگ پھلی کے مکھن یا بادام کے مکھن کے ساتھ کھائیں۔ اس حوالے سے ایک مزیدار تجویز یہ ہے کہ اسٹرابیری پر تھوڑا سا مونگ پھلی کا مکھن لگا کر بچوں کو بطور صحت مند اسنیک دیں۔
بروکلی: سرسوں یا کچی پتّے دار سبزیوں کے ساتھ کھائیں
بروکلی ایک غیر معمولی سبزی ہے جو مغربی ممالک کے ساتھ اب پاکستان میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ بروکلی میں سلفورافین (Sulforaphane) پایا جاتا ہے، جو کہ اینٹی کینسر مرکب ہے اور جسم کے خلیوں کو فری ریڈیکلز سے بچاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے جب بروکلی کو پکایا جاتا ہے، تو اس میں موجود مایروسینیز (Myrosinase) نامی انزائم ختم ہو جاتا ہے، جو سلفورافین کو فعال حالت میں لاتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو بروکلی کے تمام فائدے حاصل ہوں تو اس کے ساتھ کچی سبزیوں جیسے مولی کے پتے یا شلجم شامل کریں۔ ان سبزیوں میں وہ انزائم موجود ہوتا ہے جو سلفورافین کو فعال بناتا ہے۔ پاکستانی معاشرت کے مطابق آپ بروکلی کی ہلکی ابلی ہوئی ترکاری پر سرسوں کا پتا باریک کاٹ کر ڈالیں، یا کچّی مولی کے پتے بطور سلاد شامل کریں۔
کافی: تھوڑی سی چینی کے ساتھ بہتر انتخاب
ہماری زندگی میں کافی کا کردار وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ نوجوان طبقہ، طلبہ، دفاتر میں کام کرنے والے افراد اور رات کو جاگنے والے سب ہی کافی کو جگانے والی دوا سمجھتے ہیں۔ عام خیال ہے کہ کافی میں چینی ڈالنا نقصان دہ ہے، لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ اگر معتدل مقدار میں چینی ڈالی جائے تو یہ ذہنی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جب لوگوں نے کافی اور چینی ایک ساتھ استعمال کی، تو ان کے دماغ کے وہ حصے جو توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں، زیادہ مؤثر طور پر کام کرنے لگے۔ یعنی چینی، کیفین کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔ البتہ ضرورت سے زیادہ چینی استعمال کرنا مضر صحت ہے۔ لہٰذا اگر آپ چینی سے بچنا چاہتے ہیں تو شہد یا کھجور کی قدرتی مٹھاس کا استعمال کریں۔
سیب: سبز چائے کے ساتھ
سیب کو روز کھانے کی پرانی کہاوت ہے کہ An apple a day keeps the doctor away لیکن اگر آپ اس سیب کے ساتھ ایک کپ سبز چائے بھی پی لیں تو ڈاکٹر سے دور رہنے کے امکانات دوگنا ہو جاتے ہیں۔ سیب میں کوئرسٹن (Quercetin) اور سبز چائے میں کٹیچن (Catechin) موجود ہوتا ہے، جو مل کر خون کی پلیٹلیٹس کو جمنے سے روکتے ہیں۔ خون جمنے سے دل کے دورے، فالج اور شریانوں کی بندش جیسی مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اس ضمن میں ایک آسان تجویز یہ ہے کہ شام کو چائے کے وقت بسکٹ کی جگہ سیب کے قتلے اور ایک کپ گرم سبز چائے کا امتزاج اپنائیں۔ یہ نہ صرف مزیدار ہے بلکہ دل کی صحت کے لیے بھی نہایت مفید تصور کیا گیا ہے۔
پیاز: دال یا گندم کی روٹی کے ساتھ
پیاز ایک ایسی سبزی ہے جو تقریباً ہر پاکستانی کھانے کا لازمی جزو ہے، چاہے وہ سالن ہو، بھنا گوشت یا دال۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پیاز صرف ذائقے کی چیز نہیں بلکہ صحت کا خزانہ بھی ہے؟ پیاز اور لہسن میں ’’سلفر کمپاؤنڈز‘‘ پائے جاتے ہیں، جو جسم میں زنک کے جذب کو بہتر بناتے ہیں۔ زنک وہ معدنی جز ہے جو مدافعتی نظام، جلد کی صحت، بالوں کی نشوونما اور زخموں کے بھرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ دالیں، گندم اور بیسن جیسے اجزاء زنک سے بھرپور ہوتے ہیں، لہٰذا اگر ان کے ساتھ پیاز کھائی جائے تو جسم کو زیادہ مقدار میں زنک ملتا ہے۔ روایتی پاکستانی کھانوں میں یہ امتزاج ویسے ہی موجود ہے، مگر اگر آپ زیادہ فائدہ چاہتے ہیں تو دال کے ساتھ سلاد میں کچی پیاز لازماً شامل کریں۔
گاجر: ایووکاڈو یا زیتون کے تیل کے ساتھ
گاجر سردیوں کی خاص سبزی ہے، جسے ہم کچی کھاتے ہیں، اس کا جوس پیتے ہیں یا گاجر کا حلوہ بناتے ہیں۔ گاجر میں ’’بیٹا کیروٹین‘‘ موجود ہوتا ہے جو جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں کی بینائی، جلد کی صحت اور قوت مدافعت کے لیے نہایت اہم ہے۔ لیکن بیٹا کیروٹین چکنائی کے بغیر جذب نہیں ہوتا۔ اس کے لیے آپ کو صحت بخش چکنائی جیسے ایووکاڈو، زیتون کا تیل، اخروٹ یا بادام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سادہ لیکن مفید نسخہ یہ ہو سکتا ہے کہ گاجر کو ایووکاڈو کے ساتھ بلینڈ کر لیں یا گاجر کی سلاد پر زیتون کا تیل چھڑک کر کھائیں۔ اس طرح آپ کو وٹامن اے کا مکمل فائدہ حاصل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ کھائیں جانتے ہیں کہ سبز چائے یہ ہے کہ ہوتا ہے جاتا ہے ہے کہ ا اگر ا پ کے لیے کی صحت
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔