سندھ اور پنجاب کا آم کراچی پہنچ گیا، جانیے ذائقہ اور قیمتیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اس وقت کراچی میں ٹھیلوں پر پھلوں کا بادشاہ آم وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ سب سے بڑا اور ذائقہ دار سندھڑی آم 220 سے 300 روپے میں دستیاب ہے۔
سندھڑی کے ساتھ چونسا، انور رٹول اور دیگر آم بھی دستیاب ہیں لیکن سائز میں بڑا اور خوشبو بکھیرتے سندھڑی آم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کاشتکار کا آم کی 250 اقسام پر مشتمل باغ کی تشکیل کا منفرد منصوبہ
بیوپاری کہتے ہیں کہ سندھڑی آم بالکل تیار ہوچکا ہے اور اس کی خوشبو دور تک مہک رہی ہی۔
سندھڑی میں ایک ہفتہ قبل تک کھٹا پن تھا لیکن اب سندھڑی ہلکا کھٹا اور زیادہ میٹھا ذائقہ دے رہا ہے، یہ آم باقی آموں کے مقابلے میں زیادہ رسیلا ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آم انور رٹول آم پھلوں کا بادشاہ سندھ سندھڑی آم کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انور رٹول ا م پھلوں کا بادشاہ کراچی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔