سندھ اور پنجاب کا آم کراچی پہنچ گیا، جانیے ذائقہ اور قیمتیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اس وقت کراچی میں ٹھیلوں پر پھلوں کا بادشاہ آم وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ سب سے بڑا اور ذائقہ دار سندھڑی آم 220 سے 300 روپے میں دستیاب ہے۔
سندھڑی کے ساتھ چونسا، انور رٹول اور دیگر آم بھی دستیاب ہیں لیکن سائز میں بڑا اور خوشبو بکھیرتے سندھڑی آم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کاشتکار کا آم کی 250 اقسام پر مشتمل باغ کی تشکیل کا منفرد منصوبہ
بیوپاری کہتے ہیں کہ سندھڑی آم بالکل تیار ہوچکا ہے اور اس کی خوشبو دور تک مہک رہی ہی۔
سندھڑی میں ایک ہفتہ قبل تک کھٹا پن تھا لیکن اب سندھڑی ہلکا کھٹا اور زیادہ میٹھا ذائقہ دے رہا ہے، یہ آم باقی آموں کے مقابلے میں زیادہ رسیلا ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آم انور رٹول آم پھلوں کا بادشاہ سندھ سندھڑی آم کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انور رٹول ا م پھلوں کا بادشاہ کراچی
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔