جیکب آباد کے قریب جعفر ایکسپریس کو حادثہ، متعدد مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
جیکب آباد کے قریب جعفر ایکسپریس ٹرین کے پٹری سے اترنے کے سنگین حادثے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح جیکب آباد ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر پیش آیا، جس کے نتیجے میں ٹرین کے متعدد ڈبے پٹری سے اتر گئے۔
یہ بھی پڑھیں:میانوالی سے لاہور جانے والی ٹرین کو حادثہ، 20 مسافر زخمی
مقامی انتظامیہ کے مطابق حادثے میں متعدد مسافر زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور زخمیوں کو نکالنے اور علاج معالجے کی کوششیں جاری ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق حادثے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، تاہم تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ٹریک کی خرابی یا انجنیئرنگ نقص کو ممکنہ وجوہات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ریاست اڑیسہ میں خوفناک ٹرین حادثہ، 300 افراد ہلاک، 900 زخمی
اس حادثے کے بعد کراچی سے راولپنڈی جانے والی تمام ریلوے ٹریفک کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام نے مسافروں سے صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور متبادل انتظامات کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستان میں ریل حادثات اور واقعات عموماً ٹریک کی خرابی، تکنیکی نقص، یا سکیورٹی خطرات کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ کے بعد متعلقہ حکام تحقیقات کا آغاز کرتے ہیں، ٹریک کی مرمت ہوتی ہے، اور آئندہ کے لیے حفاظتی اقدامات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی تازہ خبر کا حوالہ ہے تو ضرور شیئر کریں تاکہ ہم اس کا جائزہ لے سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جعفر ایکسپریس جیکب آباد ریلوے ٹریک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس جیکب ا باد ریلوے ٹریک
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔