ہم سی پیک کو مزید فروغ دیں گے، چینی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے دونوں ممالک کو بہترین دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو فروغ دیں گے۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست ہیں اور ہم سی پیک کو مزید فروغ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس چین نے پاکستان کو 20 ہزار ہیلتھ کٹس دی تھیں، اس مرتبہ ان کی تعداد 50 ہزار کردی گئی ہے، جی ڈی آئی کے فروغ کا مطلب سب کی مشترکہ ترقی ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان نے بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں اور حالیہ بجٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور ترقی کے ثمرات عوام تک منتقل ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے سروے کے تحت پہلے دس سال کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین تجارت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، چین اور پاکستان ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی مستفید کرنا چاہتے ہیں۔
جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ چین وسطی ایشیائی ممالک کے لیے تعلیم کے شعبے میں بھی وظائف دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔