ایران میں رجیم چینج بڑی غلطی، حملہ تباہی لائے گا،میکرون کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کاناناسکس(نیوز ڈیسک)فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی کارروائی کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو خطے میں تباہ کن افراتفری پھیل سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے شہر کاناناسکس میں ہونے والے جی-7 اجلاس کے بعد میکرون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے سخت مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدے اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔
میکرون کا کہنا تھا، “ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں، مگر سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ہم فوجی حملے کے ذریعے حکومت بدلنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس کا انجام مکمل افراتفری ہوگا۔”
ٹرمپ کا سخت مؤقف
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بیانات میں شدت لاتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکہ ایران سے “غیرمشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرتا ہے اور اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے میکرون کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ جی-7 اجلاس سے ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے جلدی روانہ ہوئے تھے۔
اسرائیلی اور جرمن قیادت کا مؤقف
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو صدام حسین جیسا انجام بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح صدام کو 2003 میں ہٹایا گیا، ویسا ہی کچھ ایران میں بھی ہو سکتا ہے۔
ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز نےکہا ہے کہ اسرائیلی فوج مغرب کے لیے “گھناؤناکام” کر رہی ہے، مگر اگر امریکہ نے حمایت نہ کی تو ایران کی زیرزمین تنصیب “فوردو” کو تباہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔اگر ابھی اسرائیل کا ساتھ نہ دیا گیا تو اسرائیل ہتھیاروں کی کمی کا شکار ہوجائےگا۔
میکرون کا تاریخی حوالہ
میکرون نے عراق اور لیبیا میں امریکی مداخلت کے تباہ کن نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “کیا کسی کو لگتا ہے کہ عراق پر 2003 کا حملہ اچھا فیصلہ تھا؟ یا لیبیا میں کارروائی کامیاب رہی؟ نہیں!”
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ خطے میں پہلے ہی بہت سے ممالک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جن میں عراق اور لبنان شامل ہیں، اور انہیں مزید عدم استحکام نہیں بلکہ استحکام کی ضرورت ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔