پشاور، بھاری مقدار میں اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، دو افغانی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
پولیس کے مطابق ملزمان پشاور سے بھاری مقدار میں اسلحہ دیگر شہروں کو اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں 60 رائفلز، متعدد میگزینز اور سیکڑوں کی تعداد میں پارٹس شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور پولیس نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو اسمگلرز کو گرفتار کرکے بھاری اسلحہ برآمد کرلیا۔ ذرائع کے مطابق پشاور کے تھانہ پہاڑی پورہ پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان، کامران اور صابر کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان پشاور سے بھاری مقدار میں اسلحہ دیگر شہروں کو اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں 60 رائفلز، متعدد میگزینز اور سیکڑوں کی تعداد میں پارٹس شامل ہیں۔ ایس پی فقیر آباد ڈویژن محمد ارشد خان نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع بھر میں چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی کوشش
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔