ایران-اسرائیل کشیدگی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے معاملے پر جمعہ کو ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔ اجلاس نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے (14:00 GMT) ہوگا۔
اجلاس کی درخواست ایران نے دی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ صورتِ حال "انتہائی خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے اور اس میں امریکا کے براہِ راست ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں"۔
ایران کی جانب سے اس ہنگامی اجلاس کی درخواست کو روس، چین، پاکستان اور الجزائر کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور امریکا کی جانب سے اسرائیل کی بلا مشروط حمایت عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
اس اجلاس میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے کردار پر کھل کر بات کی جائے گی اور ممکنہ طور پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔