data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام ااباد(آن لائن) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے وفاقی بجٹ 2025-2026 کو ملک کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے معاشی و سماجی حقوق کے لیے تشویشناک اور اسے غریب دشمن قرار دیا ہے۔ ایچ آر سی پی نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کی جس میں کہا کہ بجٹ سخت
کفایت شعاری کے فریم ورک اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مرتب کیا گیا ہے، جس میں ان لاکھوں شہریوں کے لیے کوئی حقیقی ریلیف شامل نہیں جو 2022 سے 2024 تک جاری رہنے والے مہنگائی کے بحران سے پہلے ہی بدحال ہو چکے ہیں۔ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ اگرچہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح میں معمولی کمی کی گئی ہے، مگر یہ رعایت اتنی نہیں کہ گزشتہ برسوں میں ختم ہوتی ہوئی خریداری کی طاقت کو بحال کیا جا سکے۔کمیشن نے اس بات پر بھی سخت تشویش ظاہر کیا کہ وفاقی سطح پر کم از کم اجرت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور یہ بدستور 37 ہزار روپے ماہانہ پر قائم ہے، جو ایک چھ رکنی خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا جیسے صوبوں میں اگرچہ یہ حد بڑھا کر 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، لیکن موجودہ مہنگائی کے تناظر میں یہ اضافہ حقیقی آمدنی میں کمی کا ازالہ نہیں کرتا۔ایچ آر سی پی نے کہا کہ سندھ میں 80 فیصد صنعتیں کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہیں اور یہ رجحان پورے ملک میں پایا جاتا ہے۔ ایچ آر سی پی نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص فنڈز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایچ ا ر سی پی نے کے لیے

پڑھیں:

بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر

اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد