(گزشتہ سے پیوستہ)
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے نے امریکاکو ’’بے ایمان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران جوہری مذاکرات میں مصروف ہیں۔ایرانی ایوان صدر کے مطابق، پیزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا، ’’مذاکرات کے درمیان صہیونی حکومت کی ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت میں امریکا کے ساتھ ہم آہنگی امریکا کی بے ایمانی اور ناقابل اعتبار ہونے کی علامت ہے۔‘‘
دوسری طرف کئی سیاسی اتحادوں کے سربراہ رہنے والے پاکستان کے سرکردہ سیاسی ومذہبی قائد مولانا فضل الرحمن نے اتوار کی شام حیدرآباد میں ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی باری ہے،کل سعودی عرب یا پاکستان کی باری آئے گی،ہم صرف مذمت نہیں کررہے بلکہ اسرائیل کے خلاف ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان بھی کرتے ہیں، ان حالات میں محب وطن تجزیہ نگاروں کی یہ تشویش بالکل بجا ہے کہ اگلاہدف پاکستان بھی بن سکتا ہے .
جس طرح روسی جنرل ماسکو کے اندر قتل کئے گئے ۔جس طرح ایرانی ایٹمی سائنسدان اور جنرل گھروں میں قتل کئے گئے، اس بات کی علامت ہے نیٹو ممالک یا اسرائیل سارے اندر سے ایک ہی ہیں ۔روس میں ڈرون اسمگل کئے گئے اور پھر ان ڈرونز نے ایک دن اڑان بھری، روس کے جدید ترین لڑاکا جیٹ طیارے ہنگروں میں کھڑے تباہ کر دیئے گئے ۔ماسکو میں ایجنٹ تجارتی کمپنیوں کی آڑ میں بھیجے گئے ۔گھر اور عمارات حاصل کی گئیں اور پھر روسی جنرل گھر سے دفتر جانے کیلئے نکلا سڑک پر قتل کر دیا گیا ۔
ایران میں تجارتی کمپنیوں کی آڑ میں ڈرون اسمگل کئے گئے ۔دفاتر اور گھر کرائے پر حاصل کئے گئے ۔عین اسرائیلی حملہ کے دوران ڈرون کے ذریعے اندرونی حملہ بھی کیا گیا ۔حساس عمارات ،انفراسٹرکچر‘ ایٹمی سائنسدان ،فوجی جنرل سب کو نشانہ بنایا گیا ۔ اتوار کے روز جب اسرائیلی طیارے تہران پر خوفناک بمباری کر رہے تھے بارود سے بھری چھ گاڑیاں اہم عمارتوں اور تنصیبات کے قریب پھٹ گئیں ۔روس یا ایران میں یہ اندرونی نیٹ ورک ایک دن ،ہفتے یا مہینے میں نہیں بنا یہ طویل پلاننگ کا ایک حصہ تھا ۔جب وقت آیا یہ نیٹ ورک متحرک کیا گیا ۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔چین کا قریبی شراکت دار ہے ۔ مغرب نے پاکستان کو باضابطہ ایٹمی طاقت تاحال تسلیم نہیں کیا ۔جاسوسی کا جو نیٹ ورک روس اور ایران میں بنایا گیا اس میں پاکستان کیلئے بہت نشانیاں ہیں ۔یہ سوچنا کہ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں محض حماقت ہو گی ۔جنہوں نے 9 مئی والے دن پاکستانیوں کے ذریعے ہی فوجی تنصیبات پر حملہ کروا یا، اور ایٹمی صلاحیت کی حامل فوج کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلوا ئی تو کیا ان دشمنوں نے کوئی جاسوسی نیٹ ورک قائم نہیں کیا ہو گا ؟۔
پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تمام آئوٹ لیٹس اور ان کے گوداموں کی گہری جانچ کی ضرورت ان پہنچی ہے ۔فوڈ چینز کی درآمدات کی آڑ میں کیا کچھ آرہا ہے, امریکی ، مغربی این جی آوز یہاں کیا کرتی پھرتی ہیں اسے سنجیدگی سے چیک نہ کیا گیا تو یہ نہ ہو کہ ایران اور روس کی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی کسی دن اچانک ڈرون اڑیں اور خاکم بدہن حساس تنصیبات کو نشانہ،نہ بنا ڈالیں، ۔اعلیٰ افسران اپنے گھروں اور دفاتر میں ڈرون حملوں کا نشانہ بن جائیں گے جس طرح ایران کے فوجی کمانڈر ہر دوسرے روز نشانہ بن رہے ہیں ۔جو نفرت آمیز مہم فوج کے خلاف شروع کی گئی ایک بہت بڑے کریک ڈائون کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں ایران ایسا کوئی جاسوسی نیٹ ورک نہ بن سکے اور اگر بن گیا ہے اسے ختم کیا جا سکے ۔ایران اور روس کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور یہاں غدار نہ پنپنے دیں ۔فوج دشمن مہم چلانے والے صحافیوں کے روپ میں بھی ہیں سوشل میڈیا انفلونسرز کی شکل میں بھی ۔جاسوسی نیٹ ورک بھی انہی میں سے بنایا جاتا ہے جس طرح ایران میں خمینی رجیم حکومت سے نفرت کرنے والوں کی مدد سے بنایا گیا ۔ عالمی طاقتیں اپنی طاقت برقرار رکھنے کیلئے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیلنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔آج ایران اور روس کو دشمنوں کی مکروہ سازشوں کا سامنا ہے، کل پاکستان ہدف ہو گاپاکستان کو مستقل کے چیلنجر سے نپٹنے کیلئے آستینوں میں موجود سانپوں کا سر کچلنا ہو گا، اور پوری طاقت بے رحمی کے ساتھ کچلنا ہو گا ۔اپنی طاقت کو محفوظ نہ رکھا ۔اندرونی سازشوں کا نہ کچلا تو وہی کچھ ہو گا جو غزہ میں ہوا اور جو ایران میں ہو رہا ہے ۔ ۔خدا پاکستان کو بدترین اور غلیظ ترین دشمنوں کی ذلت آمیز سازشوں سے محفوظ رکھے ۔ یہ اس قدر بے حس اور گھٹیا ہیں کہ غزہ کے ہزاروں معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر بھی صیہونیت کی حمایت کرتے رہے،پیر مدثر شاہ ، فواد چودھریوں ،سیٹھیوں، اسرائیل کے تازہ ترین دورے کرنے والے شیطانوں اور پاک سر زمین پر رہ کر اسرائیل تسلیم کرو کی مہم چلانے والے بدترین پاکستانیوں کو اب لو ہے کی لگامیں چڑھانے کا وقت آ چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایران میں ایران کے نیٹ ورک میں بھی کیا گیا کے ساتھ کے خلاف
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭